BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 October, 2005, 05:16 GMT 10:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورپی یونین، ترکی مذاکرات کی تیاری
یورپی یونین
ترکی کا اسلامی تشخص اس کے یورپی یونین میں شمولیت کی راہ میں حائل ہے۔
آسٹریا کی طرف سے ترکی کو یورپی یونین کا مکمل ممبر بنانے کی مخالفت کی وجہ سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی تعطل کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔

یورپی یونین کے ممبران ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنائے جانے کے بارے میں بات چیت سوموار کو شروع ہونی ہے لیکن ابھی تک یورپی یونین کے ممالک بات چیت کا فریم ورک تعین کرنے میں نام رہی ہے۔

آسٹریا کی حکومت نے تجویز کیا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین میں شراکت دار بنا لیا جائے لیکن اس کو مکمل ممبرشپ نہیں ملنی چاہیے۔

ترکی نے یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے علاوہ کسی اور تجویز ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ عبداللہ گل نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے شروع ہونے والی بات چیت کے لیے وہ برسلز اسی وقت جائیں گے جب ترکی کو مکمل ممبر بنائے جانے کی گارنٹی ہو گی۔

یورپی یونین میں برطانیہ اور اٹلی ترکی حمایت کر رہے ہیں جبکہ آسٹریا، اور کئی دوسرے ملکوں کو ترکی کی شمولیت پر اعتراضات ہیں۔

یورپی یونین کے کچھ ممالک کا ترکی سے مطالبہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے آخری سالوں میں آرمینیا میں ہونے والے قتل عام پر معافی مانگے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ تاریخ کا غیر جانبدارنہ مطالعہ کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترکوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کا قتل عام نہیں کیا تھا۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ ترک فوجیوں نے دس لاکھ آرمینائی باشندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیائی باشندوں کو ایک متعصب جنگ کا سامنا تھا اور اسی جنگ میں بہت سےترک بھی ہلاک ہوئے۔

قبرض کا تنازعہ بھی ترکی کے یورپی یونین میں داخلے کے راستے میں روکاوٹ ہے۔

قبرص کا جنوبی حصہ جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے، یورپی یونین کا رکن ہے تا ہم ترکی شمالی قبرص کے مسلے پر کوئی بھی مطالبات ماننے سے گریزاں ہے۔ شمالی قبرص ترکی کے قبضے میں ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اگر ترکی سے یورپین یونین میں شمولیت کی بات چیت شروع ہو گئی تو معاملہ دس سال تک چل سکتا ہے اور اس کے بعد بھی اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں کہ اس رکنیت مل جائے گی۔

یورپی یونین کے رہنماؤں ترکی کو قبرص کو تسلیم کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ قبرض یورپی یونین کا ممبر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد