آسیان یورپی یونین کے راستے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے فلپائن میں منعقدہ اپنے اجلاس کے دوران علاقے میں آزادانہ تجارت کے فروغ اور دہشت گردی مخالف اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ ایسے دس ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم آسیان کے اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ سن 2015 تک علاقے میں آزادانہ تجارت شروع کی جائے گی اور یورپی یونین کے طرز پر ایک سیاسی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔ ان رہنماؤں نے دہشت گردی مخالف ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت رکن ممالک پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے معلومات کا تبادلہ لازمی ہوگا۔ برونیئی، برما، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام علاقائی تعاون کی تنظیم آسیان کے رکن ہیں۔ ماضی میں آسیان پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ ایک فعال ادارے کے طور پر کامیاب نہ ہوسکا ہے۔ لیکن سنیچر کے روز ہونے والے اجلاس میں ان ممالک کے رہنماؤں نے پہلی بار ایک چارٹر پر دستخط کیا جس کے تحت یورپی یونین کی طرز پر ایک سیاسی ڈھانچے کی تشکیل دی جائے گی۔
ان ممالک کے رہنماؤں کے دستخط کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آسیان علاقائی معیشت کو جوڑنے اور علاقے میں استحکام قائم کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کا اہل بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چارٹر آسیان کے چالیس سالہ سفر کا نتیجہ ہے۔ فلپائن کی صدر گلوریا ارویو نے کہا کہ آسیان اس علاقے کو دنیا کا سب سے بڑے تجارتی فورم کے طور پر ابھرنے کے لیے ہر کوشش کرے گا۔ اس موقع پر اس علاقے میں تارکین وطن کے حقوق کے دفاع کے لیے بھی ان رہنماؤں نے ایک معاہدے پر دستخط کیا۔ یہ اجلاس فلپائن کے شہر سیبو میں منعقد کیا گیا۔ آسیان کے رہنماؤں کے ساتھ آئندہ چند دنوں میں چین، جنوبی کوریا، انڈیا، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے رہنما بھی باہمی تعاون کے لیے بات چیت کریں گے۔ | اسی بارے میں ایشیا: آزاد تجارت کا معاہدہ08 February, 2004 | آس پاس ’آزادانہ تجارت جلد ہو گی‘ 29 November, 2004 | آس پاس رائس طبلِِ جنگ نہیں پیانو کے ساتھ26 July, 2006 | آس پاس آسیان: رائس کا پیانو، انڈیا کا گانا 28 July, 2006 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: برازیل کی پیشکش14 December, 2005 | آس پاس ’امیرممالک زرعی سبسڈی ختم کریں‘15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||