BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 July, 2007, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی حصص بازار میں مندی

کراچی حصص بازار
دنیا کے مضبوط ترین بازار بھی سیاسی حالات سے متاثر ہوتے ہیں: ماہرین
کراچی کے بازار حصص میں گزشتہ دو دنوں کے دوراں انتہائی مندی کا رجحان رہا۔ بدھ اور جمعرات کو تقریباً نو سو پوائنٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی اور مارکیٹ چھ سے سات فیصد نیچے آگئی۔

بیشتر اسٹاک بروکرز اور تجزیہ نگار کراچی بازار حِصص کی اس صورتحال کی وجہ بم دھما کوں اور امن و امان کی خراب صورتحال کو قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض تجریہ کاروں کا خیال ہے کہ مارکیٹ جس سطع پر پہنچ چکی تھی اس کا نیچے آنا فطری عمل تھا۔

ایکوئٹی اینڈ جہانگیر صدیقی بروکریج ہاؤس کے ڈائریکٹر محمد سہیل کا کہنا ہے کہ بازار حصص سے بعض غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کے فروخت کے رُجحان کی بناء پر چھوٹے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑی جس کی وجہ سے فروخت کے رجحان میں مزید تیزی آگئی۔

رجحان
 بعض اوقات مارکیٹ میں معمولی وجوہات کی بناء پر بھی تیزی آجاتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے معاملات مارکیٹ پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
محمد سہیل
کراچی بازار حصص کے اُتار چڑھاؤ کے مزاج کے بارے میں محمد سہیل کا کہنا تھا کہ بعض اوقات مارکیٹ میں معمولی وجوہات کی بناء پر بھی تیزی آجاتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے معاملات بازار پر اثر انداز نہیں ہوتے۔

محمد سہیل نے مزید کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں مارکیٹ اپنی سابقہ سطع سے چھ سے سات فیصد کم ہوئی ہے۔

بعض اسٹاک بروکرز کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے معاملے کے دوران اور اس کے بعد صوبہ سرحد میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد بھی کراچی بازار حصص کی سطح بلندی کی طرف جاتی رہی تاہم منگل کی شب اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان کے جلسے میں خود کش بم دھماکے کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہوئی۔

وجوہات
 جہاں سرمایہ کار مارکیٹ کے بڑھنے سے تشویش میں مبتلا تھے وہیں امن و امان کی خراب صورتحال اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان اُن کے خدشات کو بڑھا رہا تھا۔
شجاع حسین
منگل کو ہونے والے بم دھماکے کا اثر بدھ سے ہی مارکیٹ پر ظاہر ہونا شروع ہوگیا۔

بدھ کو کراچی بازار حصص اپنی ریکارڈ سطح 14 ہزار پوائنٹ سے تین سو ترانوے پوائنٹ کم ہوئی یہی صورتحال جمعرات کو بھی رہی اور چار سو 65 کی کمی کے بعد مارکیٹ تیرہ ہزار ایک سو چورانوے پوائنٹ تک آپہنچی۔

کیپیٹل ون بروکریج ہاؤس کے ڈائریکٹر بروکنگ شجاع حُسین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ جس سطع پر پہنچ چکی تھی وہاں سے اس کا نیچے آنا لازمی تھا۔
شجاع حُسین نے مزید کہا کہ جہاں سرمایہ کار مارکیٹ کے بڑھنے سے تشویش میں مبتلا تھے وہیں امن و امان کی خراب صورتحال اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان اُن کے خدشات کو بڑھا رہا تھا۔

اسی بارے میں
ہدف سے زائد ٹیکس وصولی
01 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد