BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 July, 2007, 20:47 GMT 01:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہدف سے زائد ٹیکس وصولی

سنٹرل بورڈ آف ریونیو
سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا نام بدل کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو رکھ دیا گیا ہے
محصولات کی وصولی کے قومی ادارے سنٹرل بورڈ آف ریونیو نے تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کے مقرر کردہ ہدف سے زائد وصولیاں کی ہیں۔

یہ بات سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین عبداللہ یوسف نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔

اس مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 835 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جبکہ مالی سال کے آخری دن یعنی تیس جون تک 838 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں۔

سی بی آر کے سربراہ عبداللہ یوسف نے ملکی مجموعی معاشی صورتحال میں بہتری کو ہدف سے زائد وصولی کا باعث قرار دیا۔ عبداللہ یوسف کا کہنا تھا ’ٹیکس وصولی انتظامی امور میں مہارت کی وجہ سے بھی بہتر ہوتی ہے لیکن ہدف سے زائد وصولی کا اصل کریڈٹ ملکی مجموعی معاشی صورتحال اور بلخصوص معیشت کی ترقی کی شرح میں استحکام کو جاتا ہے‘۔

عبداللہ یوسف کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کے بڑھنے کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو ٹیکس وصولی میں ایک تسلسل کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال ’ٹیکس گروتھ‘ سترہ فیصد سے زائد رہی ہے۔

عبداللہ یوسف کے مطابق اس برس ٹیکس وصولی کے سلسلے میں ایک اور مثبت تبدیلی یہ آئی ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں کی مد میں اس سال 327 ارب روپے وصول کیےگئے جبکہ گزشتہ برس اس مد میں 225 ارب روپے وصول کیےگئے تھے۔

عبداللہ یوسف
’ٹیکس وصولی کے بڑھنے کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے‘

اس رجحان کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ اب زیادہ لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس جمع کروا رہے ہیں۔ تاہم اب بھی بلواسطہ طور پر وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کی شرح براہ راست ٹیکسوں سے زائد ہے۔

ٹیکس دہندگان کی تعداد کے بارے میں سی بی آر کے سربراہ نے کہا کہ اس سال تقریباً اٹھارہ لاکھ لوگوں نے ٹیکس جمع کروایا ہے جبکہ اگلے برس مزید تین لاکھ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برس سے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں بیس فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔

چیئرمین سی بی آر کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی اور بجلی کے بحران اور حالیہ بارشوں کے باعث ٹیکس وصولی کا عمل متاثر ہوا ہے اور اگر یہ عوامل نہ ہوتے تو اس سے کہیں زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکتا تھا۔

عبداللہ یوسف نے یہ بھی بتایا کہ انکے ادارے کی تنظیم نو کے لیے نئے قانون کے لاگو ہو جانے کے بعد یکم جولائی سے ان کا ادارہ سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے بجائے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نام سے پکارا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد