ہنگامہ آرائی میں پنجاب کا بجٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کا بجٹ جمعرات کو اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی مخالفانہ نعرے بازی کے دوران پیش کردیا گیا ہے۔ بجٹ میں ایک سو پچاس ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ رکھا گیا ہے جو حکومت کے مطابق صوبے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس اسمبلی کے پانچویں اور شاید آخری بجٹ میں اپوزیشن کے احتجاج کو بھی ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اور جوابی حکومتی شور شرابہ اس قدر شدید تھا کہ صوبائی وزیر حسنین بہادر دریشک کی ایک گھنٹے کی تقریر کا ایک بھی لفظ پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کی سمجھ میں نہ آسکا اور خبر کے لیے انہیں ان کی لکھی ہوئی تقریر پر اکتفا کرنا پڑا۔ یہ تقریرایک کتابچہ کی شکل میں پہلے ہی فراہم کردی گئی تھی۔ صوبائی وزیر نے ایوان میں اپنی بجٹ تقریر میں غالباً کہا ہوگا کہ (اگر ان کی تقریر بجٹ کتابچے پر مبنی تھی) پچھلے سال کے مقابلے میں اس برس تعلیمی شعبہ کی مد میں بہتر فی صد، صحت عامہ کے لیے اکیاون فی صد اور پانی فراہمی و نکاسی کے لیے پچیس فی صد اضافہ کا اعلان کیا گیاہے۔ انہوں نے نے ایوان کو بتایا کہ اس سال محصولات تین سو چھپن ارب روپے اور اخراجات دو سو تینتالیس ارب روپے کےہونگے اور بچنے والی رقم کو ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے اعداد و شمار کے ذریعے حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سنہ دوہزار دو میں پنجاب کی چونتیس فی صد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی تھی جو اب گھٹ کر اکیس فی صد رہ گئی ہے۔ پنجاب میں حکمران مسلم لیگ کی موجودہ معیاد کا یہ پانچواں اور آخری بجٹ تھا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس بجٹ میں کوئی اضافی ٹیکس لگایا گیا نہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا۔ بجٹ میں کچی آبادی کے لیے مالکانہ حقوق ،غریب ترین دیہی آبادی دوکنال فی کس مفت اراضی، زرعی و صنعتی بجلی کے استعمال کے ٹیکس پر رعایت اور مختلف صوبائی محصولات میں کمی کے اعلانات بھی کیے گئے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کی تنـخواہوں میں پندرہ فی صد اور پینشن میں بیس فی صد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں صوبے کے لیے چھ لاکھ چھیالیس ہزار غریب ترین خاندانوں کے لیے پانچ سو روپے فی کنبہ ماہوار نقد امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے اس امداد کو حکومت کا ایک تاریخی اعلان قرار دیا گیا۔ صحافیوں کے بجٹ تقریر سننے میں ناکامی تو اپنی جگہ لیکن ایوان کی حالت سے یوں محسوس ہورہا تھا کہ بیشتر ارکان کو بھی بجٹ سننے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو قائد حزب اختلاف نے نکتہ اعتراض پر صوبے میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر احتجاج کیا۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت جواب دے رہے تھے جب اپوزیشن کے اراکین کھڑے ہوگئے۔انہوں نے نعرے بازی شروع کردی جوبجٹ پیش کیے جانے اور پھراجلاس اگلے روز ملتوی ہونے تک جاری رہی۔
تقریبا چار بجکر پینتس منٹ پر جب وزیر اعلیٰ نے اٹھ کر وزیر خزانہ سے ہاتھ ملایا تو اسمبلی کے کئی اراکین اور صحافیوں کو علم ہوا کہ بجٹ پیش کیا جا چکا ہے۔ بعدازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک پریس کانفرنس میں اپوزیشن کے رویے کی مذمت کی اور کہا کہ اپوزیشن اراکین نے پہل کی تھی جس کے بعد سرکاری اراکین ان سے الجھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی گرفتاریوں کے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ کے بقول اپوزیشن کے کارکنوں میں سے چند جرائم پیشہ افراد کو پکڑا گیا ہے اور اگر وہ بےگناہ ہیں تو عدالتوں میں جا کر ریلیف لے لیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر قاسم ضیاء نے اپنے چیمبر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلیٰ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے لیے ہاتھوں کے اشاروں سے ہدایات جاری کرتے رہے۔ انہوں نےکہاکہ حکومت بوکھلا چکی ہے اور تشدد کی سیاست پر اتر آئی ہے۔ |
اسی بارے میں ’سیاسی استحکام ترقی کے لیےناگزیر‘11 June, 2007 | پاکستان ’غیرآئینی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں‘10 June, 2007 | پاکستان ترقیاتی کام 520 ارب، دفاع 275 ارب09 June, 2007 | پاکستان مجموعی پیداوار میں زراعت روبہ زوال01 June, 2007 | پاکستان پاکستانی فوج کے کاروباری مفادات 27 May, 2007 | پاکستان شرح نمومیں اضافے سےمہنگائی 18 April, 2007 | پاکستان معاشی صورت حال اور حکومتی دعوے28 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||