مجموعی پیداوار میں زراعت روبہ زوال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں کی پیداوار جانچنے کے لئے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مجموعی ملکی معیشت میں زرعی شعبہ کا حصہ کم جبکہ صنعت کا بڑھ رہا ہے۔ کہنے کو تو پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ستر فیصد سے زائد آبادی کا انحصار زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں پر ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بہت جلد گئے وقتوں کی باتیں لگیں گی۔ حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملکی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ رو بہ زوال ہے۔ اور صرف پچھلے دو برسوں میں اس حصے میں دو فیصد کے قریب کمی آچکی ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دو سال پہلے زراعت مجموعی معیشت کا تئیس فیصد تھی، پچھلے مالی سال کے دوران یہ شرح بائیس تک آئی اور اب یہ شرح اکیس فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اسی سال صنعت کا معیشت میں حصہ پچیس فیصد کے قریب ہے کچھ ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے۔ حکومت نے چونکہ معاشی پیداوار کے اپنے طریقہ کار میں کچھ تبدیلی کی ہے، تو اس کا اثر زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی شرح پر بھی نظر آ رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی وزارت زراعت کے سیکریٹری اسماعیل قریشی کا استدلال ہے کہ معیشت میں زراعت کا حصہ کم ہونے کا رجحان پوری دنیا پر یکساں حاوی ہے۔ اس میں کچھ کا تعلق پوری دنیا میں رجحان کی تبدیلی سے بھی ہے اور اس کا کچھ تعلق پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی اصلاحات سے بھی ہے جن کے زریعے معیشت کو ناپا جاتا ہے۔ لیکن زرعی تجزیہ کار اور وزارت زراعت کے سابق سیکر یٹری ڈاکٹر ظفر الطاف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زراعت حکومتی عدم توجہی کے باعث زوال پذیر ہے۔ اور یہ کہنا کہ مجمعوعی معیشت میں اس کا حصہ بظاہر کم ہو رہا ہے جبکہ اصل میں یہ ترقی کر رہی ہے، سرا سر دھوکا ہے۔
ڈاکٹر ظفر الطاف نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا ۔’ پاکستان میں زراعت تنزلی کا شکار ہے اور اس کی کئئ وجوہات ہیں۔ پہلی بات یہ کہ زرعی استعمال کے لئے دستیاب زمین کی مقدار میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے کیونکہ نئی نئی ہاؤسنگ سکیموں کے نام پر زرعی زمین کو شہروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے‘۔ ڈاکٹر ظفر الطاف نے بتایا کہ پچھلے سال دو ملین ہیکٹرز زرعی زمین شہروں میں شامل کی گئی۔ اس سال مزید ایک اعشاریہ پانچ ہیکٹرز شہروں میں تبدیل ہو جائے گی۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کا کہنا تھا کہ اسکا مطلب یہ ہوا کہ زراعت میں ملکی اثاثے کم کئے جا رہے ہیں۔ ’ایسے میں زراعت کیسے بڑھ سکتی ہے‘۔ ستر کی دہائی میں ملکی معیشت میں زراعت کا حصہ، پچاس فیصد سے زائد ہوا کرتا تھا، اس کے باوجود کہ صدر ایوب خان کے دور میں حکومت کا سارا زور صنعت پر رہا۔ اب جبکہ زراعت کا ایک اہم جز لائیو سٹاک کا شعبہ چار فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کر رہا ہے، بحیثیت مجموعی زراعت میں تنزلی کو زرعی ماہرین تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں زرعی معاہدوں کے خلاف مارچ17 April, 2007 | پاکستان سرمایہ داروں کو چار ارب روپےمعاف 23 November, 2006 | پاکستان ساڑھے چھ ارب ڈالر کا خسارہ؟ 16 May, 2005 | پاکستان افراط زر11 فیصد سے تجاوز کرگی23 May, 2005 | پاکستان ورلڈ بینک: غربت مکاؤ یا فوج بڑھاؤ؟08 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||