BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 November, 2006, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرمایہ داروں کو چار ارب روپےمعاف

یہ قرضے زراعت سے متعلقہ صنعتوں کو دیئے گئے تھے
زرعی ترقیاتی بینک نے جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کی ’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی‘ میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سینتالیس کاروباری شخصیتوں کے ذمے چار ارب چودہ کروڑ اٹھاسی لاکھ روپے سے زائد کے قرضے معاف کردیئے گئے ہیں۔

بینک انتظامیہ کے مطابق ’پروجیکٹ لون‘ کے تحت یہ قرضہ جات سٹیٹ بینک کی ایک سکیم کے تحت معاف کیئے گئے ہیں جوکہ کئی برسوں سے وصول ہی نہیں ہورہے تھے۔

کمیٹی کے چیئرمین ملک اللہ یار خان اور کئی اراکین نے سوال اٹھایا کہ زرعی ترقیاتی بینک کا مقصد ہی زرعی شعبہ کے لیے قرضہ جاری کرنا تھا تو آخر پروجیکٹ لون کیوں دیئے گئے؟

جس کے جواب میں بینک کے سینیئر افسران نے کہا کہ ایسا حکومت کی بنائی گئی پالیسی کے تحت کیا گیا اور اس پالیسی کا مقصد زراعت سے متعلق صنعتوں کو فروغ دینا تھا۔

کمیٹی کے بعض اراکین نے کہا کہ ایک طرف چھوٹے قرضے لینے والے غریب کسانوں کو معمولی رقم کی وصولی کی خاطر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے لیکن صنعتکاروں کے کروڑوں روپے کے قرضے زرعی بینک نے اس سکیم کے تحت معاف کیوں اور کیسے کردیے؟

جس پر بینک کے اجلاس میں موجود افسران نے کہا کہ ڈوبے ہوئے قرضہ جات میں سے کچھ رقم وصول کرکے باقی معاف کردینے کی سکیم مرکزی بینک نے جاری کی تھی۔

واضح رہے کہ کمیٹی کے اجلاس میں بدھ کے روز بینک کے نمائندوں نے بتایا تھا کہ چھوٹے کاشتکاروں کے ذمے چالیس کروڑ روپے کے قریب قرضہ معاف کیا گیا ہے۔

جمعرات کو جو فہرست زرعی بینک کے افسران نے کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی اس کے مطابق سب سے زیادہ قرضہ ساڑھے اٹھاون کروڑ روپے میاں محمد شوگر مل کے مالک مشتاق احمد بھٹی کو معاف کیا گیا جو راولپنڈی کے رہائشی ہیں۔

پروجیکٹ لون کے تحت جن سینتالیس افراد کے قرضے معاف ہوئے ہیں ان میں سے نو کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی جبکہ اڑتیس افراد کا تعلق صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے اور ان میں بیشتر لاہور کے ہیں۔

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ قرضہ جوکہ تقریباً اکیاون کروڑ کے قریب ہے اور وہ معاف کرانے والے راوی ایگری اینڈ ڈیری پروڈکشن کے مالک چودھری محمد اکرام کا تعلق بھی لاہور سے بتایا گیا ہے۔

بینک کی فہرست کے مطابق کراچی کے جان شیر عالم خان نے شان فیڈ کے ذمے تقریباً ساڑھے ترتالیس کروڑ، لاہور کے رب نواز خان نے ’ٹرانس ٹیک‘ کے ذمے چالیس کروڑ سے زائد اور لاہور کے ہی شاہد علی خان نے ’ایس ایس آئل ملز‘ کے ذمے سوا سینتیس کروڑ روپے کا قرضہ معاف کرایا ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان کی اصل اپوزیشن
25 May, 2006 | پاکستان
فوجی بے قاعدگی پر بحث
31 May, 2006 | پاکستان
قرض اور تعلیم
16 March, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد