ایک مہینہ، تیس کروڑ کا نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چین سے درآمد شدہ ریل کے انجنوں میں خرابی پیدا ہو جانے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور ریلوے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس سودے میں ملوث افراد کے نام کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل برآمد کیے گئے اکتیس میں سے چوبیس ریل انجنوں میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں اور ان میں سے دس انجن تو مکمل طور پر ناکارہ ہوگئے ہیں۔ اٹھانوے ملین ڈالر کا یہ سودا دو ہزار ایک میں طے پایا تھا۔ اس وقت ریٹائرڈ جنرل جاوید اشرف قاضی ریلوے کے وزیر تھےجن کے پاس اب وزارت تعلیم کا قلمدان ہے۔ اس سودے کے تحت پاکستان ریلوے نے چین کی ایک کمپنی سے انہتر ریلوے انجن خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جن میں سے اکتیس انجن ابھی تک پاکستان پہنچے ہیں۔ گو ریلوے حکام نے کہا ہے کہ چین کی کمپنی جس نے یہ انجن تیار کیے تھے ان انجنوں کی مرمت کی حامی بھر لی ہے مگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ اس سودے میں بنیادی تکنیکی مشاورت کو نظر انداز کیا گیا جس کے مطابق پہلے پاکستان ریلوے نے چار انجن منگوا کر ایک سال تک ان کا ٹرائل رن کرنا تھا اس کے بعد بقیہ انجن منگوانے تھے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گذشتہ ایک ماہ سے دس ناکارہ انجن کی مد میں ریلوے کو تیس کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے کیونکہ ایک انجن کے ذریعے روزانہ ایک لاکھ روپے کا بزنس کیا جاتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے ریلوے حکام کو اس سودے کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ کون شخص تھا جس نے تکنیکی مشاورت کو نظرانداز کیا۔ اس پر ریلوے حکام نے کہا کہ یہ سودا اس وقت کے وزیر جنرل جاوید اشرف قاضی نے کیا تھا۔ کمیٹی نے ریلوے حکام کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا کہ اس سودے کی منظوری نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ نے دسمبر انیس سو ننانوے میں دی تھی۔ کمیٹی کے مطابق اس وقت نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کوئی وجود ہی نہ تھا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس سودے کی منظوری دے سکے۔ کمیٹی نے ریلوے حکام کے دعووں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ایک سب کمیٹی بنائی ہے جو ایک ماہ کے اندر تحقیقات کرے گی کہ اس سودے میں کون ملوث تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||