فوجی بے قاعدگی پر بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بدھ کو آڈیٹر جنرل کی جنگ میں معذور اور ہلاک ہو جانے والے فوجیوں کے لواحقین کے لیئے مختص کی گئی رقم پر مبنی رپورٹ پر بحث کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ’شہیدوں‘ کی بیواؤں اور لواحقین اور جنگ میں معذور ہو جانے والے فوجیوں کے لیئے مختص کی گئی تین کروڑ چھتیس لاکھ روپے کی رقم کو وقت پر استعمال نہ کرنے کی بنا پر غیر آئینی طور پر دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا تاکہ مالی سال کے اختتام پر رقم حکومت کو واپس جانے سے بچ سکے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی نے اس بات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیئے وزارت دفاع، وزارت خزانہ اور آڈیٹر جنرل کے ایک عہدیدار پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس معاملے کی جانچ کر کے اس سال اگست تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق انیس سو اٹھاسی اور انیس سو نوے کے درمیان فوج نے حکومت سے بجٹ میں فوج کے شہیدوں، بچوں، لواحقین اور جنگ میں معذور ہو جانے والے فوجیوں کے لیئے کم قیمت گھر تعمیر کرنے کے لیئے تین کروڑ چھتیس لاکھ روپے لیئے اور مالی سال کے اختتام سے ایک دن قبل اس رقم کو دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا۔ آڈیٹر جنرل نے ستمبر انیس سو اکانوے میں اس بے ضابطگی کی نشاندہی کی جس پر فوج کے ہیڈکوارٹر نے اکتوبر انیس سو بانوے میں جواب دیا کہ وہ حکومت سے اس رقم کو فوج کے پاس ہی رہنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ تاہم آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مالی سال کے اختتام پر نہ خرچ کی جانے والی رقوم کو آڈٹ اور حکومت سے چھپانا آئین اور وزارت خزانہ کے رولز کی خلاف ورزی ہے جس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بدھ کو فوج کے ویلفیئر اور ری ہیبیلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے بریگیڈئر زریں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ ایسا کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر جب اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ شہیدوں کا پیسہ ہے اور اس میں اصولوں کی پاسداری ضروری نہیں ہے۔ بریگیڈئر زریں نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت شہیدوں کی بیواؤں، لواحقین اور جنگ میں معذور ہو جانے والے افراد کی تعداد 80 ہزار ہے جن کے لیئے مکانات کی تعمیر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیسے میں کسی قسم کی کوئی مالی بے ضابطگی نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ پیسہ کسی دوسرے مقصد کے لیئے خرچ کیا گیا۔ اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کے سربراہ ریاض فتیانہ نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیئے کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس برس اگست تک اپنی رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ |
اسی بارے میں ’فوج کے لئےآئین توڑنا ہی کافی ہے‘04 June, 2004 | پاکستان فوج کے 55 کاروباری ادارے26 April, 2005 | پاکستان لوگوں کی فوج پر شدید تنقید11 October, 2005 | پاکستان اسلام آباد: فوج کے لیئے مزید زمین14 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||