یہ امیروں کا بجٹ ہے: اپوزیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں منگل کو مالی سال 2007-08 کے بجٹ پر بحث کا آغاز ہوا۔ سینیٹ میں اسحٰق ڈار اور قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا اور حکومت کے انتظامی اور غیر ترقیاتی اخراجات میں اربوں روپوں کے اضافے اور دو سو ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کرنے کے اقدامات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ امیروں کا بجٹ ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال میں حکومت نے ایک سو اسی ارب روپے اضافی خرچ کیے جو خراب تر مالیاتی نظم ضبط کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ امریکہ میں ایک ثقافتی پروگرام پر دو کروڑ سے زائد اضافی خرچہ کیا گیا۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’جب ضیاءالحق نماز پڑھتے تھے تو ان کے گرد موجود کئی بے وضو بیوروکریٹس بھی کھڑے ہوجاتے تھے لیکن آج کل گلاس کا دور ہے اور صدر صاحب گلاس پیتے ہیں تو سارے لوگ بھی گلاس میں پانی پیتے ہیں،۔ سینیٹ میں وسیم سجاد اور قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شیر افگن نیازی اور حکومت کے حامی دیگر اراکین نے نئے مالی سال کے بجٹ کو عوامی مفاد کا ایک تاریخی بجٹ قرار دیا۔ اسحٰق ڈار نے حکومت پر تنقیدی کی کہ بجٹ دستاویزات کے ساتھ اضافی اخراجات کی فہرست پیش نہیں کی گئی جس کا مطلب ہے کہ حکومت کچھ چھپانا چاہتی ہے۔ جس پر عمر ایوب نے وضاحت کی کہ حکومت نے متعلقہ تفصیل جاری کی ہے اور اس کی کاپی سینیٹ میں اتفاق سے تقسیم نہیں ہوسکی۔
مسلم لیگ نواز کے رہنما نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دفاع پر دو ارب اکسٹھ کروڑ چھیالیس لاکھ روپے کے اضافی اخراجات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے سینتیس نکاتی فہرست پیش کی جس میں بتایا ہے کہ وزیراعظم کے بیرونی ممالک دوروں پر پونے سترہ کروڑ اور صدر کے دوروں پر بارہ کروڑ اضافی اخراجات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں گولف کورس کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ روپے اور ریلوے کو خسارہ پورا کرنے کے لیے تینتالیس کروڑ روپے دیے گئے۔ صدر کے دورہ امریکہ کے وقت ثقافتی طائفے کے لیے دو کروڑ روپے کا خرچ اضافی خرچہ کیا گیا۔ اسحٰق ڈار نے اپنی جماعت کے دور حکومت یعنی انیس سو ننانوے اور موجودہ حکومت کے موجودہ دور کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں ایک سو ترتالیس فیصد اور دفاع کے مد میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ننانوے سے دو ہزار سات میں مالیاتی خسارہ ایک سو اناسی ارب سے بڑھ کر پونے چار سو ارب ہوچکا ہے۔ جبکہ ان کے مطابق تجارتی خسارہ ساڑھے نو ارب ڈالر سے گیارہ ارب ڈالر سے بھی زائد تک تجاوز کرگیا ہے۔
مسلم لیگ نواز کے رہنما نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں میں نجکاری سے ہونے والی آمدنی میں سے دو سو تین ارب پچاسی کروڑ روپے بجٹ خسارہ پورا کرنے پر خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے جاری کردہ اقتصادی سروے سے لیے گئے اعداد وشمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ ننانوے میں پونے چوبیس لاکھ بے روزگار تھے جو سنہ دو ہزار چھ میں ساڑھے چھتیس لاکھ سے بھی بڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ ننانوے میں ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، کی فہرست میں پاکستان بدعنوان ممالک کی فہرست میں اٹھاسیویں نمبر پر تھا اور سنہ دو ہزار چھ میں ایک سو تریسٹھ ممالک کی فہرست میں ایک سو بیالیسویں نمبر پر آچکا ہے۔ ادھر قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن نے بجٹ پر بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غلط خارجہ، داخلی اور مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک جہاں خطے میں تنہا ہوا ہے وہاں سرمایہ دارانہ نظام کی مضبوطی کا باعث بھی بنا ہے اور غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی تنہائی ختم کرنے کے لیے سب سے پہلی ترجیح پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات کو دینی چاہیے اور بعد میں اسلامی اور دیگر ممالک سے بہتر تعلقات کی ترجیح ہونی چاہے۔ انہوں نے مہنگائی سے متعلق حکومتی اعداد وشمار کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیس فیصد سے زیادہ مہنگائی ہے لیکن حکومت کہتی ہے کہ آٹھ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا جن اشیاء پر سبسڈی دی گئی ہے اس سے پرچون کا کاروبار کرنے والے غریب ہی متاثر ہوں گے اور فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے دفاعی بجٹ میں چھبیس فیصد اضافے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی پینشن کے چھیالیس ارب روپے کی رقم دفاع کے بجٹ میں ظاہر نہیں کی گئی بلکہ شہری حکومت کے اخراجات میں ڈال دی گئی ہے۔ انہوں نے کہ دفاعی بجٹ کم ظاہر کرنے کی خاطر ایسا کرنا بین الاقوامی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ دونوں ایوانوں میں بجٹ پر بحث جاری ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ وہ اپنا پیش کردہ بجٹ آئندہ دو ہفتوں کے اندر منظور کرالے۔ مالی سال سنہ دو ہزار سات اور آٹھ کا یہ بجٹ یکم جولائی سے نافذ ہوگا۔ |
اسی بارے میں ’غیرآئینی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں‘10 June, 2007 | پاکستان ’سرحد کا بجٹ عوام دوست ہوگا‘09 June, 2007 | پاکستان بلوچستان کا بجٹ، بھاری خسارہ20 June, 2006 | پاکستان سرحد بجٹ: دینی اساتذہ کو مراعات 17 June, 2006 | پاکستان ایک خط: بجٹ سے ’مہنگائی آوے ہی آوے‘16 June, 2006 | پاکستان ’پنجاب ترقیاتی بجٹ دگنا‘13 June, 2006 | پاکستان نئے مالی سال کا بجٹ: خصوصی ویڈیو10 June, 2006 | پاکستان سینیٹ میں بجٹ پر شدید تلخی07 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||