کراچی بازار حصص بلند ترین سطح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک مارکیٹ پیر کے روز اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جب کراچی سٹاک انڈیکس چودہ سو اکیس پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں ہفتے سے جاری صورتِ حال بھی کراچی سٹاک ایکسچینج کے مسلسل بڑھتے انڈیکس پر کوئی منفی اثر نہیں ڈال سکی۔ اختتام ہفتہ مثبت رجحان کے ساتھ بند ہونے والا انڈیکس آج صبح کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی ایک بار پھر بڑھنا شروع ہوا اور دن ختم ہوتے ہوتے، چودہ سو اکیس پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی مضبوط سٹاک مارکیٹس بھی ملکی سیاسی صورتحال اور بحرانوں سے متاثر ہوتی ہیں جبکہ کراچی سٹاک مارکیٹ کا شمار نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی مارکیٹس میں ہوتا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک چھوٹے چھوٹے سیاسی اور معاشی جھٹکوں کو سہنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ پانچ سال پہلے کراچی کی مارکیٹ کی مالیت پانچ ارب ڈالر تھی جبکہ اب اسکا کل حجم اڑسٹھ ارب ڈالر ہو چکا ہے جسکا مطلب ایک کمپنی کےشعبۂ تحقیق سے متعلقہ محمد سہیل یہ نکالتے ہیں کہ یہ مارکیٹ اب پختگی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ کئی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں حالیہ اضافے کی بنیاد نئی سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ | اسی بارے میں سٹاک مارکیٹ کے بحران کی تحقیقات08 July, 2006 | پاکستان بش کا دورہ، سٹاک ایکسچینج مندا08 March, 2006 | پاکستان سیاسی افواہیں، مارکیٹ میں مندی08 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||