نیویارک: پاکستانی بینکر پر الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیو یارک میں کریڈٹ سوئس انٹرنیشنل میں کام کرنے والے ایک پاکستانی نژاد بینکر پر تجاری معاملات میں بے ضابطگیوں کے کئی الزامات لگائے گئے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ حافظ محمد زبیر نسیم نے بینکر کی حیثیت سے مختلف سودوں کے بارے میں ملنے والی معلومات کا غلط استعمال کر کے ساڑھے سات ملین ڈالر کا فائدہ حاصل کیا۔ سینتیس سالہ نسیم پر سکیورٹیز فراڈ کے تحت پچیس اور سازش کے تحت ایک الزام عائد کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں مختلف ممکنہ معاہدوں کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کی تھیں۔ نسیم کے وکیل نے اس معاملے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ان کے ساتھی ملزمان کو ابھی نامزد نہیں کیا گیا۔ نارتھ ویسٹرن کارپوریشن، انرجی پارٹنرز، ویریٹاز، جیکوزی برانڈ اور دیگر کمپنیوں کا شمار ان اداروں میں ہوتا ہے جن کے معاملات میں نسیم پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ نسیم امریکہ میں کریڈٹ سویس سکیوریٹیز میں گلوبل انرجی گروپ کے لیے کام کرتے تھے۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل انرجی گروپ کی رکنیت کی وجہ سے نسیم کو اہم معلومات تک رسائی حاصل تھی۔ نسیم کے ساتھی ملزمان کے نام نہیں بتائے گئے۔ | اسی بارے میں امریکہ: دوسو پاکستانی گرفتار18 November, 2006 | آس پاس اسلحہ معاہدے میں فراڈ پر تحقیقات بند14 December, 2006 | آس پاس گوجرانوالہ: متبادل بینکنگ اور دھوکہ13 April, 2007 | پاکستان ’ کون بنےگا کروڑ پتی‘پھر تنازعہ میں29 April, 2007 | فن فنکار دوسروں کا بیلنس چرانے والی سِم28 June, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||