امریکہ: دوسو پاکستانی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں امیگریشن اور دیگر وفاقی ایجنسیوں نے کئی شہروں میں چھاپے مارکر تیس سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے- گرفتار پاکستانیوں میں عورتیں بھی شامل ہیں جن میں ایک بازہ روحی بھی شامل ہیں جو تنظیم ایشین امریکن نیٹ ورک اگینسٹ ایبوز آف ہیومن رائیٹس یا انا کی نیویارک کی آرگنائزر ہیں۔ بازہ کو اسوقت گرفتار کیا گیا ہے جب وہ ان دنوں امریکہ کا دورہ کرنیوالی مختار مائی کی نیویارک میں پاکستانیوں کے سب سے بڑے علاقے کونی آئي لینڈ میں دیئے جانے والے استقبالیہ کی میزبان تھیں- انا کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے نیویارک سے بات چیت کرتے کہا کہ ہوسکتا ہے ان کا ویزا کا مسئلہ ہو لیکن مختار مائی کی نیویارک آمد کی موقع پر بازہ روحی کی گرفتاری کے پیچھے پاکستانی حکومت کے ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں اور انا کی سرگرمیوں پر انہیں ریپ کی دھمکی بھی دی گئي تھی۔ ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق گرفتار ہونیوالوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے جن میں بازہ روحی سمیت آٹھ عورتیں شامل ہیں جبکہ گرفتار شدگان میں پچیس پاکستانی شامل ہیں- سب سے زیادہ گرفتاریاں امریکہ کے مشرقی ساحل میں نیویارک کے بروکلین بورو میں کونی آئلینڈ سے ہوئی ہیں۔ تاہم گرفتار شدہ پاکستانیوں اور عورتوں کی اصل تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ اور نہ ہی امیگریشن حکام اسکی تفصیلات بتارہے ہیں۔ گرفتار کیئے جانے والوں میں ٹیکسی ڈرائيور، گیس اسٹیشن یا پیٹرول پمپوں، کارخانوں اور ریسٹورانوں پر کام کرنیوالے پاکستانی تارکین وطن شامل ہیں- جبکہ بوسٹن سے مساجد کے دو پیش امام بھی گرفتار کیئے گئے ہیں جن پر ویزا میں ردو بدل کرنے کے الزآمات ہیں- مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ وفاقی ایجنٹوں نے ایسا آپریشن نیویارک، بفیلو، ہارٹفورڈ (کنیکٹیکٹ)، اٹلانٹا، نوآرک (نیوجرسی)، فلاڈیلفیا، منی سوٹا کے سینٹ پال، ہیرسبرگ (ورجینیا)، اور واشنگٹن ڈی سی میں بدھ اور جعمرات کی شب کیا جس کاروائي میں کم از کم تینتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم اینفورسمینٹ کے ترجمان مارک ریموڈی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ان افراد کو مبینہ طور پر ویزا فراڈ کے الزمات میں گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے کئي افراد نے امریکہ میں مذہبی کارکن (ریلیجس ورکر) کے طور پر ویزا لیکر داخل ہوئے تھے لیکن یہ لوگ اپنے کام کی ویزا کے بجائے دوسرے کام کررہے تھے۔ امریکی امیگریشن اور کسٹم کے قوانین کے نفاذ کے ادارے کے ترجمان نے دعوی کیا کہ یہ کارروائی معمول کی ہے جو کئي ایسی تنظیموں کیخلاف تحقیقات کے بعد عمل میں آئي ہے جو مذہبی ورکرز یا دوسرے اقسام کے ورک ویزا فراڈ میں ملوث بتائي گئي تھیں- امیگریشن حکام نے بتایا ہے کہ الزامات ثابت ہونے پر ان گرفتار شدگان کو امریکہ بدر کیا جا سکتا ہے- مسلمانوں کی مساجد کے علاوہ چرچ سے وابستہ کئي دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے افراد کو وقت بوقت مبینہ طور غلط طور پر رلیجس ورکرز کے ویزا حاصل کرنے کیلیے فراڈ میں ملوث بتایا جاتا رہا ہے اور کچھ عرصہ قبل ایک عیسائی مبلغ کو عدالت سے سزا بھی ہوئی تھی۔ لیکن گزشتہ روز کی کارروائی پر اکثر پاکستانیوں کی گرفتاریوں پر امریکہ کے مسلمانوں کی تنظیمیں اسے نسلی تعصب قرار دی رہی ہیں۔ | اسی بارے میں 48 پاکستانی امریکہ سے ملک بدر24 October, 2003 | صفحۂ اول 1350 پاکستانی کراچی پہنچے19 April, 2006 | پاکستان بارسلونا:پاکستانیوں سمیت دس گرفتار15 September, 2004 | پاکستان غیرقانونی تارکین وطن واپس09 November, 2003 | پاکستان پاکستانیوں کے لئے برطانوی ویزے02 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||