| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
48 پاکستانی امریکہ سے ملک بدر
امریکہ کے امیگریشن اور کسٹمز کے ادارے نے اڑتالیس پاکستانیوں کو ملک بدر کرکے پاکستان واپس بھیج دیا ہے۔ یہ افراد امیگریشن کے قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں زیرِ حراست تھے۔ امریکہ میں پاکستانی مشن کےنائب سربراہ محمد صادق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان افراد کو جمعرات کے روز ایک خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان روانہ کر دیا گیا ہے۔ ان افراد نے امریکہ میں عدالتی داد رسی آزمانے کے بعد پاکستانی سفارتخانے سے درخواست کی تھی کہ انہیں جلد از جلد وطن واپس بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں۔ اڑتالیس میں سے بائیس افراد کو پاکستان واپس بھیجنے کے احکامات سن انیس سو نوے ہی میں جاری کردئے گئے تھے تاہم یہ غیر قانونی طور پر امریکہ ہی میں مقیم رہے۔ باقی چھبیس میں سے پانچ کے ویزوں کی مہلت ختم ہوچکی تھی اور باقی افراد پر دھوکہ دہی، غبن، منشیات، چوری اور گھریلو تشدد کے جرائم عائد کئے گئے تھے۔ محمد صادق نے بتایا کہ زیادہ تر افراد فردِ جرم عائد کئے جانے کے بعد کم ازکم دو ماہ جیل میں رہ چکے ہیں جوکے ایشیائی افراد کے لئے جیل کی سزا کی سب سے کم مدت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور پاکستان میں ان افراد کے اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا گیا ہے۔ پاکستان روانہ کی جانے والی پرواز میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار اور دو ڈاکٹرز ان افراد کے ہمراہ تھے۔ صادق نے یہ بھی بتایا کہ زیرِ حراست افراد کو پاکستان واپس بھیجنے کے لئے یہ چھٹی پرواز تھی۔ اس سے قبل چارسو اناسی افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا اور گیارہ ستمبر کے بعد سے اب تک ملک بدر کئے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد چودہ سو ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||