اسلحہ معاہدے میں فراڈ پر تحقیقات بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کو اربوں پاؤنڈ کے اسلحے کی معاہدے میں فراڈ کی تحقیقات بند کی جا رہی ہیں۔ برطانوی پریس کے مطابق سعودی عرب نے دھمکی دی ہے کہ اگر تحقیقات جاری رہیں تو وہ یہ معاہدہ ختم کر دے گا۔ الیمامہ کے نام سے جانے والے اس معاہدے پر سابق وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر کے دورِ حکومت میں دستخط کیے گئے تھے۔ بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے تـجزیہ نگار راجر ہارڈی کے مطابق برطانوی حکومت سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سعودی عرب شرقِ وسطیٰ جیسے ہنگامہ خیز علاقے میں ایک اعتدال پسند، مغرب نواز ملک ہے اور بقول صدر بش کے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ایک بڑا اتحادی ہے۔ الیمامہ جس کا مطلب بطخ ہوتا ہے برطانیہ کی طرف سے کیا جانے والا سب سے بڑا اسلحہ کا معاہدہ ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس جیسے اتحادی کو باقاعدگی کے ساتھ اسلحہ بیچنے کا یہ معاہدہ جاری رکھنے کے لیے اعلیٰ اہلکاروں کو کمیشن یا صاف الفاظ میں رشوت بھی دینا پڑتی ہے اور یہ رشوت لینے میں سعودی شاہی خاندان کے لوگ بھی شامل ہیں۔ برطانوی تاجروں کو یہ معلوم ہے اور وہ اسے قبول بھی کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر وہ یہ نہیں کریں گے تو یہ معاہدے ان کے حریفوں مثلاً فرانس کو مل جائیں گے۔ لارڈ گولڈ سمتھ نے اپنے اعلان میں کہا کہ وہ یہ تحقیقات نہ صرف برطانیہ کے تجارتی اور اقتصادی مفاد کو بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں برطانوی خارجہ پالیسی اور برطانوی سیکیورٹی کو نقصان سے بچانے کے لیے ختم کر رہے ہیں۔ تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ ان تحقیقات کے ختم ہونے کے بعد حکومت پر تنقید ختم ہو جائے۔ | اسی بارے میں چین کا اسلحہ، خریدار بے قرار17 June, 2006 | آس پاس ’اسلحے کی غیرذمہ دارانہ فروخت‘ 12 June, 2006 | آس پاس امریکہ نے سمگلنگ کی: ایمنسٹی10 May, 2006 | آس پاس حماس کو اسلحہ نہیں دیا:ایران 14 May, 2006 | آس پاس اسلحہ سمگلنگ: پاکستانی کو سزا08 June, 2006 | آس پاس حزب اللہ کا اسلحہ خانہ04 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||