اسلحہ سمگلنگ: پاکستانی کو سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو ایک پاکستانی کو غیر قانونی طور پر امریکہ سے لاکھوں ڈالر کا فوجی ساز و سامان بلیک مارکیٹ میں ایران کو فروخت کرنے پر امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سان ڈیاگو کی ایک عدالت میں ساڑھے بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ چھپن سالہ عارف علی درانی کو مارچ میں مجرم قرار دیا گیا تھا جبکہ باقاعدہ سزا اب سنائی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ امریکی فوجی سازوسامان، جیسے ایف فائیو جیٹ اور چنوک ہیلی کاپٹروں کے پرزے، غیر قانونی طور پر بیلجیم، متحدہ عرب امارات اور ملیشیا کے راستے ایران کو فروخت کر رہے تھے۔ مسٹر درانی پر غیر قانونی طور پر امریکی فوجی سامان بیچنے کا یہ پہلا الزام نہیں۔ بیس سال پہلے بھی وہ اسی قسم کے الزام میں پانچ سال کی قید بھگت چکے ہیں۔ انہیں انیس سو ستاسی میں ایران کو ٹوماہاک میزائل کے پرزے بیچنے کے الزام میں سزا ملی تھی۔ جس کے بعد انہیں امریکہ سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ اس وقت مسٹر درانی کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے مشہور ایران کونٹرا سکینڈل کا حصہ تھے اور امریکی میرین کرنل اولیور نارتھ کی ایما پر یہ ہتھیار فروخت کر رہے تھے۔ امریکہ نے ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے ساتھ تمام دفاعی ساز و سامان کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی تھی لیکن امریکی صدر ریگن کے زمانے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکی حکومت خود اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طور پر ایران کو ہتھیار فروخت کر رہی تھی تاکہ ایک تو اس وقت ایران میں یرغمال امریکی شہریوں کو چھڑایا جائے اور دوسری طرف اس فروخت سے حاصل کی گئی رقم سے لاطینی امریکی ملک نکاراگوا میں سخت گیر گوریلا جنگجوؤں کی مدد کی جائے۔ اسے ایران کونٹرا سیکنڈل کہا جاتا ہے۔ امریکہ سے نکالے جانے کے بعد مسٹر درانی نے امریکہ کی جنوبی سرحد کے قریب ہی میکسیکو میں روزاریٹو بیچ پر گھر بنا لیا اور ہتھیار فروخت کرنے کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دو امریکیوں نے انہیں حالیہ سرگرمیوں میں شامل کیا اور ایران سے اس سلسلے میں بات چیت بھی انہوں نے نہیں بلکہ دونوں امریکیوں نے ہی کی۔ ان میں سے ایک امریکی، جارج چارلس بوڈنز دی سیکنڈ، نیوی کے سابق انٹیلی جنس افسر ہیں۔ جبکہ دوسرے امریکی رچرڈ ٹوبی، ایک بزنس مین ہیں۔ یہ دونوں پہلے ہی اقبال جرم کر چکے ہیں اور اپنی اپنی سزاؤں کے منتظر ہیں۔ اخبار خلیج ٹائمز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیاں کئی سال سے مسٹر درانی کے پیچھے تھیں۔ مگر چونکہ وہ امریکہ کی سرزمین پر نہیں تھے اس لیے انہیں گرفتار کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ آخر کار اس کا طریقہ یہ نکالا گیا کہ میکسیکو میں سرکاری اداروں کو مطلع کیا گیا کہ مسٹر درانی غیر قانونی طور پر میکسیکو میں رہ رہے ہیں۔ ایک دن جب مسٹر درانی چار دیگر افراد کے ساتھ، جن میں سے تین افغان اور ایک شامی تھا، ایک ریستوران سے کھانا کھا کر نکل رہے تھے تو میکسیکو کی پولیس نے انہیں گرفتار کیا اور پاکستان واپس بھیجنے یا ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کی۔ لیکن انہیں براہ راست میکسیکو سے پاکستان بھیجنے کے بجائے ایسا راستہ اختیار کیا گیا کہ انہیں راستے میں امریکی شہر لاس اینجلس میں جہاز بدلنا پڑے۔ لاس اینجلس میں امریکی ایجنٹ تیار تھے اور جیسے ہی جہاز وہاں اترا انہوں نے مسٹر درانی کو انیس سو نناوے پر ان کے خلاف درج اسلحہ کے سمگلنگ کے ایک پرانے کیس میں گرفتار کر لیا۔ اطلاعت کے مطابق میکسیکوں میں ان کے ساتھ گرفتار کیے گئے تینوں چاروں افراد امریکی شہری تھے لہذا انہیں امریکہ ڈیپورٹ کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں امریکہ نے سمگلنگ کی: ایمنسٹی10 May, 2006 | آس پاس جی-8 اوراسلحے کی خریدوفروخت22 June, 2005 | Debate اسلحہ کی نمائش 09 September, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||