حصص بازاروں میں شدید مندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی طور پر قرضوں کی عدم دستیابی کے خوف سے پیدا ہونیوالی صورتحال کے باعث دنیا کے بڑے حصص (شیئرز) بازاروں میں جمعہ کو ایک بار پھر شدید مندی کا رحجان دیکھنے میں آیا ہے۔ اربوں ڈالر کے شیئرز اپنی قدر کھو بیٹھے ہیں، جس سے کاروباری ادارے اور انفرادی سرمایہ کار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ جمعہ کو نیویارک میں ڈاؤ جونز شیئر انڈکس حصص کی خرید و فروخت کا آغاز ہوتے ہی تقریباً ایک سو پچیس پوائنٹ نیچے چلی گئی جبکہ لندن کی FTSE شیئر انڈکس 3.7 فیصد، پیرس کی Cac شیئر انڈکس 3.1 فیصد اور جرمنی کی Dax شیئر انڈکس 1.5 فیصد تک گر گئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بازارِ حصص کے بحران سے بینکوں، کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے قرضوں اور نقد رقوم کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ عمل عالمی کساد بازاری کا سبب بن سکتا ہے۔‘
امریکی مالیاتی اداروں کے پھنسے ہوئے قرضوں کی وجہ سے دنیا کے بازار حصص ہِل کر رہ گئے ہیں۔ امریکی مالیاتی اداروں نے بڑے پیمانے پر ایسے لوگوں کو قرض جاری کیے ہیں جو ان کے اہل نہ تھے۔ نتیجتاً بینکوں نے ایک دوسرے کو رقوم جاری کرنے پر اپنی فیس کا تناسب یہ کہہ کر بڑھا دیا کہ وہ خطرے کے امکان کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم دنیا بھر میں مرکزی بینکوں نے تجارتی بینکوں کو قرضے جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں تاکہ حصص بازاروں کو سہارا دیا جا سکے۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ کی مدد مگر کس حد تک‘31 January, 2007 | آس پاس نیویارک: پاکستانی بینکر پر الزام 04 May, 2007 | آس پاس چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس ٹوکیو بازارِ حصص میں افراتفری18 January, 2006 | آس پاس امریکہ: دو ارب ڈالر روزانہ قرضہ03 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||