BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف پر دباؤ بڑھ رہا ہے
ایمرجنسی کے خلاف سول سوسائٹی اور وکلاء کا احتجاج جاری ہے
ایمرجنسی ہٹانے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دولت مشترکہ سے وابستہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیر کو لندن میں اپنے اجلاس کے بعد جنرل مشرف سےکہا کہ وہ دس روز کے اندر ملک سے ایمرجنسی اٹھا لیں ورنہ پاکستان کو دولت مشترکہ کی رکنیت سے معطل کر دیا جائے گا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی اس فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور دولت مشترکہ کے ایکشن گروپ نے صدر مشرف کو دو ٹوک پیغام دیا ہے۔ انہوں نے اگرچہ صدر مشرف کی جانب سے انتخابات کرانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن وہ صرف انتخابات کے اعلان سے ہی مطمئن نہیں ہوں گے کیونکہ کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ایمرجنسی کے سائے میں منصفانہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو رہا ہے۔ وہ جلدی ہی ایک اعلی سطحی ایلچی اسلام آباد بھیجنے کی تیاری کر

امریکہ کی کوشش تھی کہ صدر مشرف اور بینظیر میں مفاہمت ہو جائے
رہے ہیں جو صدر مشرف پر واضح کرے گا کہ ایمرجنسی کےدوران ہونے والے پارلیمانی انتخابات امریکہ کو قبول نہیں ہوں گے۔

امریکہ کی جانب سے اب یہ واضح تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ صدر مشرف کو اس کی حمایت اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی حمایت، دونوں میں فرق ہے۔

لیکن مبصرین کے مطابق صدر مشرف اپنی حکمت عملی ملک کے اندرونی حالات کو دیکھتے ہوئے وضع کریں گے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ کسی متبادل فارمولے پر عمل ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے صدر مشرف کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ جب تک وہ صدر کے عہدے پر فائز ہیں، وہ ( بیظیر) وزیر اعظم کا عہدہ نہیں سنبھالیں گی۔

امریکہ کی اب تک خواہش یہ ہی تھی صدر مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان مفاہمت ہو جائے، لیکن پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

درایں اثناء پاکستان نے دولت مشترکہ وزارتی گروپ کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی سے متعلق دیئے جانے والے بیان پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دولت مشترکہ کا بیان زمینی حقائق اور پاکستان کو درپیش چیلنجوں سے لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی غیر معمولی حالات میں اداروں کو تباہی سے بچانے اور اندرونی بحران سے بچنے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔

بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
صحافی ہراساں
ایمرجنسی: اندورن سندھ میں صحافی پریشان
سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
’ہاں میں ڈر گیا‘
’اظہار رائے ٹھیک سہی مگر بچے چھوٹے ہیں‘
اسی بارے میں
’ہاں میں ڈر گیا ‘
13 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد