صدر مشرف اب مستعفیٰ ہو جائیں، بینظیر بھٹو کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے صدر پرویز مشرف سے کہا ہے کہ وہ عہدہ صدارت سے مستعفی ہو جائیں۔ انہوں نے غیر ملکی نشریاتی اداروں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’صدر کو اب جانا چاہیئے۔ آمریت کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘ بینظیر بھٹو کو مجوزہ لانگ مارچ سے روکنے کے لیے لاہور میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کی قیام گاہ کے اردگرد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے لانگ مارچ کے لیے جمع ہونے والے درجنوں کارکنوں کوگرفتار بھی کر لیا ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستانی عوام کو اب اعتماد نہیں رہا کہ جنرل مشرف میں ملک کو جمہوریت کی طرف لے جانے کی صلاحیت ہے۔ بینظیر بھٹو نے تصدیق کی کہ ’حالات ایسے نہیں کہ اگر جنرل مشرف صدر رہتے ہیں تو میں بطور وزیرِ اعظم کام کروں۔‘ انہوں نے کہا: ’وقت آ گیا ہے کہ جنرل مشرف چلے جائیں‘۔ ’جنرل مشرف پاکستان کے لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں کہ منصفانہ انتخابات کرا سکیں۔ وہ آمریت کو برقرار رکھنے اور اس چلانے پر کمر بستہ ہیں‘۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’چاہے وہ ہمارے کتنے ہی لوگوں کو بند کر دیں پھر بھی بہت سے ایسے ہوں گے جو اس ظلم کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے جو پاکستان کو تباہ کر رہا ہے۔‘
لاہور سے صحافی امداد علی سومرو کے مطابقِ لاہور ڈیفنس کے ایکس بلاک میں واقع سینیڑ سردار لطیف کھوسہ ہاؤس جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نظر بند ہیں وہاں سے کچھ فاصلے پر نامعلوم افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگا دی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار احمد نور کے مطابق پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے جب بینظیر بھٹو کی قیام گاہ کی جانب جانا چاہا تو پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا بلکہ انہیں بینظیر بھٹو کی قیام گاہ تک جانے دیا۔ اس سلسلے میں جب سینئر ایس پی لاہور آفتاب احمد چیمہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ محکمہء داخلہ نے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل تمام رہنماؤں کو گرفتاریوں سے استثنی دے رکھا ہے اور ان کی نقل و حمل پر پابندی نہیں ہے۔ پولیس افسر کے مطابق ایسے تمام رہنماؤں کی فہرست ان کے پاس موجود ہے۔ جبکہ شہر کے دیگر علاقوں شاہدرہ ، فیروز پور روڑ ، چونگی امر سندھو اور دیگر مقامات پر پیپلز پارٹی کے کارکن ٹولیوں کی شکل میں سڑکوں پر آ کر پولیس پر پتھراؤ کر کے اور ٹائر جلا کر واپس بھاگ جاتے ہیں۔ بینظیر بھٹو بدستور کھوسہ ہاؤس میں نظر بند ہیں۔ جبکہ لاہور میں ایک دوسرے مقام سے گاڑیوں کا قافلہ قصور کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی لاہور کے ترجمان کے مطابق لانگ مارچ کا آغاز ہوچکا ہے اور اعلان کردہ شیڈول کے مطابق قصور میں لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ اور جلسہ ہوگا۔ یہ قافلہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی کی قیادت میں پیر کی دوپہر فیروز پور روڈ سے روانہ ہوا۔ بعد میں پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمان چند کی سربراہی میں گاڑیوں کا قافلہ ان کے ساتھ آ ملا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے اب وہ بینظیر بھٹو کے پاس پہنچنے کے بجائے براہِ راست قصور پہنچیں اور لانگ مارچ میں شامل ہوں قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے پیپلز پارٹی لاہور کے سیکرٹری اطلاعات ذکریا بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ راستے میں جلوس کا استقبال کیا جا رہا ہے اور لوگ چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ پولیس نے لاہور کے قریب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب چیرمین اور سابقِ اسپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کو پارٹی کے دیگر پینتس کارکنوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ پنجاب کے قائد حزبِ اختلاف کے صدر قاسم ضیا نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے ان کے مطابق پولیس نے یوسف رضا گیلانی کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پنجاب کے صدر مخدوم شاہ محمود قریشی کی قیادت میں قصور جانے والے جلوس میں شامل ہونے لے لیے لاہور سے روانہ ہوئے تھے۔ ایبٹ آباد سے ہمارے ساتھی علی احمد خان کے مطابق صوبہ سرحد کے سابقِ وزیرِ اعلیٰ سردار مہتاب خان عباسی کو منگل کی صبح پانچ بجے سے ایبٹ آباد میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سردار مہتاب خان عباسی نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ پولیس نے ان کو ایم پی او تین کے تحت نظر بند کیا ہے۔ اس سے قبل حکومتِ پنجاب نے رات گئے بینطیر بھٹو کو ایک ہفتے کے لیے نظربند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ بینظیر کی نظربندی سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور لانگ مارچ ہر حالت میں ہوگا۔ بینظیر بھٹو نے منگل سے لاہور سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے اور پیر کو لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کل لاہور سے ہر صورت میں لانگ مارچ ہوگا اور اگر انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا تب بھی یہ لانگ مارچ ہو کر رہے گا۔
ادھر حکومت اس لانگ مارچ کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے اور وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ’فی الحال تمام جلوسوں، ریلیوں اور سیاسی اجتماعات غیر قانونی ہیں۔اگر بینظیر بھٹو قانون شکنی کرتی ہیں تو انہیں نتائج بھگتنے پڑیں گے‘۔ بینظیر بھٹو کی نظر بندی کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور ملک اقبال نے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کو تین ایم پی او کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار نظر بندی کے احکامات لے کر بینظیر کی قیام گاہ پر گئے تاہم وہاں کسی نے بھی ان احکامات کو وصول نہیں کیا لیکن اس کے باوجود نظربندی کے حکم پر عملدرآمد ہوگا۔ لاہور میں بینظیر بھٹو سینیٹر لطیف کھوسہ کے گھر میں قیام پذیر ہیں اور بینظیر کی نظر بندی کے احکامات ان کی قیام گاہ کے دروازے پر چسپاں کر دیے گئے ہیں۔ نظر بندی کے احکامات جاری ہونے کے بعد ڈیفینس کے علاقے میں واقع کھوسہ ہاؤس کے اردگرد پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے، آس پاس کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ بینظیر کی قیام گاہ کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں واقع علاقے میں کسی غیرمتعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں مشرف سے بات چیت بند:بینظیر بھٹو12 November, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں11 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش10 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کے صوبائی صدر گرفتار10 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ملاقاتیں، ایمرجنسی ایک ماہ میں اٹھانے کا عندیہ10 November, 2007 | پاکستان جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم 12 April, 2007 | پاکستان پی پی پی مظاہرے پر لاٹھی چارج07 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||