مشرف سے بات چیت بند:بینظیر بھٹو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن بے نظیر بھٹونے کہا ہے کہ انہوں نے مشرف حکومت سے بات چیت کا سلسلہ بند کردیا ہے کیونکہ آئین کی معطلی کے ساتھ ہی مشرف حکومت سے تعلقات کا خاتمہ ہوگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کل لاہور سے ہر صورت لانگ مارچ ہوگا اگر انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا تب بھی یہ لانگ مارچ ہوکر رہے گا۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں مزاراقبال پر حاضری کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا وہ مشرف حکومت سے مزید بات نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر ایمرجنسی برقرار رہی تو وہ مشرف حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتیں کیونکہ ان کے بقول یہ پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔انہو ں نے کہا کہ جس نے آئین معطل کیا ہو،ملک میں ایمرجنسی لگائی ہو اورعدلیہ کو حراست میں لیا ہو وہ اس کے ساتھ بالکل نہیں چل سکتیں۔بے نظیر نے کہا کہ انہوں نے اسی گڑبر سے بچنے کے لیے مذاکرات کاراستہ اپنایا تھا۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ جنرل مشرف سے بات کے سلسلہ کو بڑھا کر ملک کو پرامن طریقے سے جمہوریت کی طرف لے جائیں تاکہ عدلیہ گرفتار نہ ہوسکے،ملک میں ایمرجنسی نہ لگے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
انہوں کہا کہ مشرف کے کل کے اعلانات تاخیر سے کیے گئے ناکافی اقدامات ہیں۔بے نظیر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ صدرمشرف نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہورہے اسی لیے انہوں نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدرجنرل مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کا وعدہ پورا کیا نہ آزاد الیکشن کمیشن قائم ہوا اور نہ ہی انتظامیہ میں غیر جانبدار لوگ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے ہاتھ،پاؤں باندھ دئیے جائیں آنکھ بند کردی جائے کہ وہ دیکھ بھی نہ سکے تو پھر کیسے شفاف انتخابات ہوسکیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لانگ مارچ میں شامل ہوں کیونکہ یہ لانگ مارچ بے نظیر یا پیپلز پارٹی کا مارچ نہیں ہے بلکہ ننگے پیر والوں کا،غریبوں اور مظلوموں کا ہے۔انہوں نے دانشوروں، مزدوروں، بزرگوں، عورتوں نوجوانوں اقلیتوں سمیت ہر طبقہ سے اپیل سے لانگ مارچ میں شمولیت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ نوجنوری کو انتخابات کا انعقاد کے اعلان کو مثبت قرار دیتی ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کو باقی ہے۔ بے نظیر مزاراقبال پر حاضری کے بعد سانحہ کراچی میں جاں بحق ہونے والے لاہور کے پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کے گھر گئیں۔پھر انہوں نے پیپلز پارٹی کے بانی رکن شیخ رفیق احمد مرحوم کے گھر جاکر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور صحافیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے لاہور پریس کلب گئیں۔ پریس کلب میں صحافیوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا رکھا تھا اور بے نظیر کو دیکھ کر انہوں نے پرجوش انداز میں مشرف مخالف نعرے بازی شروع کردی۔ مال روڈ سمیت کئی مقامات پر راستے میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں نظر آئے جنہوں نے ہاتھ ہلاکر بے نظیر اور ان کے قافلے کا خیر مقدم کیا۔ بےنظیر بھٹو نے لاہور میں اپنے رفقاء سے لانگ مارچ کے بارے میں صلاح مشورے کیے جہاں تجویز پیش کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کو انتخابی مہم کا رنگ بھی دیتے ہوئے وسطی پنجاب کو اس کے روٹ میں شامل کیا جائے۔
پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی کا امکان ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جی ٹی روڈ کی بجائے وسطی پنجاب کے کچھ اضلاع سے ہو کر گوجرانوالہ پہنچیں گی جہاں سے وہ راولپنڈی روانہ ہو جائیں گی۔ پیپلزپارٹی کی ترجمان فرزانہ راجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بارے میں بات تو ہو رہی ہے لیکن ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ پہلے توقع کی جارہی تھی کہ لانگ مارچ منگل کو لاہور سے شروع ہوگا اور اسلام آباد میں دھرنے پر اختتام پذیر ہوگا لیکن اب بعض پارٹی رہنماؤں نے بے نظیر بھٹو سے کہا ہے کہ اس کو انتخابی مہم کا حصہ بھی بنائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اوکاڑہ، قصور، ساہیوال، فیصل آباد سے ہوتی ہوئی گوجرانوالہ جائیں اور وہاں سے شمالی پنجاب کا دورہ کریں۔گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں بےنظیر کے استقبال کی تیاریاں کی جاری ہیں اور استقبالی کیمپ لگائے جارہے ہیں۔ بے نظیر نے کل اپنی پریس کانفرنس میں نو جنوری سے پہلے عام انتخابات کو مثبت قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ایمرجنسی اور آرمی ایکٹ کی موجودگی میں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات ہونا مشکل ہیں۔ بے نظیر نے مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں پر بھی تنقید کی اور ان کے لیے پنجاب کے سیاسی یتیم کا لفظ استعمال کیا۔ پنجاب حکومت نے فی الحال یہ اعلان کررکھاہے کہ صوبے میں جلوس نکالنے پر پابندی ہےاور مختلف شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کی سختی سے پابندی کی جائے گی۔ پولیس نے بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو حراست میں لے رکھا ہے اور حکومتی عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ لانگ مارچ کے لیے پیپلز پارٹی کو مکمل فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔لاہور میں ڈیفنس میں بے نظیر کی قیام گاہ کے اردگرد پولیس کی نفری بڑھا دی ہے اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں11 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش10 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کے صوبائی صدر گرفتار10 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ملاقاتیں، ایمرجنسی ایک ماہ میں اٹھانے کا عندیہ10 November, 2007 | پاکستان جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم 12 April, 2007 | پاکستان پی پی پی مظاہرے پر لاٹھی چارج07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||