بینظیر کی ملاقاتیں، ایمرجنسی ایک ماہ میں اٹھانے کا عندیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو نظر بندی کے حکم کی واپسی کے بعد اسلام آباد میں اپنے گھر سے نکل کر پارٹی سیکریٹیریٹ پہنچ گئی ہیں جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے پیپلزپارٹی کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو سنیچر کی شام کو وفاقی دارالحکومت میں تعینات 75 غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کرنے والی ہیں۔ گزشتہ روز بینظیر بھٹو کو اسلام آباد میں ان کے گھر پر تین دن کے لیے نظربند کر دیا گیا تھا اور ان کےگھر کے گرد سکیورٹی دستوں کا گھیرا تھا جبکہ لیاقت باغ کے قریب پی پی پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور سینکڑوں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا۔ بینظیر کی نظربندی کی احکامات جمعہ کی شام کو واپس لے لیے گئے تھے۔
پی پی پی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق غیر ملکی سفیروں سے بینظیر بھٹو کی ملاقاتیں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوں گی۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ان سات خواتین ارکان اسمبلی کو بھی رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ روز راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسری طرف اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عندیہ دیا کہ ملک سے ایمرجنسی ایک ماہ کے اندر اٹھائی جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی میں اسی طرح بہتری آتی رہی تو ایمرجنسی ایک ماہ کے اندر اٹھا لی جائے گی۔ پولیس نے پی پی پی صوبہ سرحد کے صدر رحیم داد خان کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ پشاور پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کر کے باہر آئے تھے۔ ان کے ساتھ صوبائی سیکریٹری اطلاعات ارباب عالمگیر خلیل کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اس سے پہلے جب رحیم داد خان نے پریس کانفرنس شروع کی تو پولیس پریس کلب کے اندر گھس آئی۔ لیکن پریس کلب کے عہدیداروں نے پولیس کو پریس کلب کی عمارت سے باہر نکال دیا۔ ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر سے پیپلز پارٹی کے پانچ ہزار کارکن گرفتار کیےگئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے متعدد شہروں سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لے کے تھانوں اور حوالات میں بند کر دیا گیا۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سنیچر کو ان ساڑھے تین سو وکلاء کو ضمانت پر رہا کرنے حکم دیا ہے جنہں چھ روز پہلے گرفتار کیاگیا تھا۔ان وکیلوں کو پنجاب کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا ہے اور سماعت کے موقع پر انہیں عدالت پیش نہیں کیا گیا۔ لاہور کے ساڑھے تین سو وکیلوں کے مقدمے کی پیروی کرنے والے آفتاب احمد باجوہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وکیلوں کی رہائی کے پروانے جاری کیے جارہے ہیں اور ان کے جیلوں تک پہنچتے ہی گرفتار وکیلوں کی رہائی شروع ہوجائے گی۔ دوروز پہلے اسی خصوصی عدالت نے تقریبا ساڑھے تین سو وکلاء کی ضمانت منظور کرلی تھی لیکن مچلکے جمع کرائے جانے سے پہلے سرکاری وکیل نے اعتراض کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے دلائل دینا چاہتے ہیں آج انہی کے دلائل اور اس پر بحث کے بعد عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ |
اسی بارے میں سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم07 November, 2007 | پاکستان سندھ میں ہڑتال، وکلاء کی گرفتاریاں08 November, 2007 | پاکستان جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان08 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں، احتجاج کا اعلان07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||