BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 November, 2007, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں

پیپلز پارٹی کے کارکن کی پٹائی
حکومت نے پیپلز پارٹی کو کسی بھی قسم کے جلسے یا ریلی سے منع کیا ہے

پاکستان کے صوبے پنجاب میں پولیس نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور سینکڑوں کارکنوں کو ان کے گھروں میں چھاپے مار کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کی ترجمان فرزانہ راجہ کا کہنا ہے کہ ان کے لگ بھگ آٹھ سو کارکن گرفتار ہوچکے ہیں اور ابھی گرفتاریوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

پیپلز پارٹی کی چئر پرسن بے نظیر بھٹو نے بدھ کو راولپنڈی میں جلسہ عام اور اس کے بعد لاہور سے مشرف حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

حکومت پنجاب نے ضلعی حکومت کی رپورٹ پر جلسہ کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا تھا اور وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کا تھا کہ پیپلز پارٹی کو لاہور میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان دونوں اعلانات کے بعد بدھ کو رات گئے اچانک پیپلز پارٹی کے خلاف پولیس آپریشن کا آغاز ہوگیا۔

ایک پولیس انسپکٹر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پربتایا کہ انہیں وائرلیس پر پیغام ملا کہ پیپلز پارٹی کے سرگرم کارکنوں اور مقامی عہدیداروں کو حراست میں لیا جائے جس کے بعد سے وہ گرفتاریاں کر رہے ہیں۔

نواز شریف کے حامی کی پٹائی
لاہور میں سب سے زیادہ عتاب میں مسلم لیگ نواز کے کارکن ہیں
گرفتار کارکنوں کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ پولیس کئی کارکنوں اور عہدیداروں کے گھروں میں سیڑھیاں لگا کر کودی ہے۔ انہوں نے پولیس کی بدسلوکی کی شکائت کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ساری رات بھر جاری رہا اور بڑی تعداد میں کارکن اور رہنما روپوش ہوگئے ہیں۔

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں گرفتاریوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب میں وکلاء کے علاوہ مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن اور رہنماؤں کو گرفتار و نظر بند کیا گیا تھا۔

سب سے بڑی تعداد مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی ہے۔ مسلم لیگ نون کے ترجمان کے مطابق صرف انہی کے ڈھائی ہزار کے قریب کارکن گرفتار ہیں۔

اس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے گرفتار کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اور بعض سیاسی حلقوں نے گرفتاری نہ ہونے کو مشرف بے نظیر مفاہمت کی ایک کڑی قرار دیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بینظیر کے پنجاب میں حکومت مخالف جلسے جلوس کرنے کے اعلان کے بعد اس کے کارکنوں کی گرفتاریوں سے بظاہر یہ تاثرملتا ہے حکومت کو ان کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔

لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی حکومت کی’ آفرز‘
پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر کئی پیشکشیں
نیو میڈیا’پاک‘ نیو میڈیا
غیرمعمولی حالات میں غیر روایتی ذرائع ابلاغ
ناہید خانپی پی پی کا مظاہرہ
پارلیمان کے سامنے جیالوں کے نعرے
قاضی فاروقعدالتی بحران
چیف الیکشن کمشنر قاضی فاروق بھی سرگرم
 احتجاجاحتجاج تھما نہیں
ایمرجنسی کے خلاف طلبا، وکلاء سراپا احتجاج
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد