BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 November, 2007, 07:22 GMT 12:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضلعی عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ

’میڈیا پر پابندی کی وجہ سے وکلاء کا لوگوں سے رابطہ کٹ گیا ہے‘

پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ،ججوں کی معطلی اورگرفتاریوں کے خلاف پاکستان بھر کے وکلاء نے مزید تین روز تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں وکلاء تنظیموں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ تیسرے روز بھی جاری رکھا جبکہ کوئٹہ میں وکلاء نمائندوں کے مطابق اب آئندہ سے روزانہ دس وکیل گرفتاری دیا کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بائیکاٹ کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا ، جس میں میں آئندہ تین روز تک بائیکاٹ جاری رکھنے کا عزم کیا گیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صدر مشرف پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ایمرجنسی ختم کریں۔

ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلاء آئندہ تین روز تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور اتوار کو مزید لائحہ عمل طئے کیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل باڈی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ واپس لیا جائے ، دو نومبر کو جو صورتحال تھی اسے بحال کیا جائے اور وکلا، سول سوسائٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے احکامات کو حکومت واپس لے۔

وکلاء کی یکجہتی کمزور پڑنے کے بارے میں اختر حسین کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے وقت ججوں اور وکلاء ایک مقصد کے لیے ایک ہی موقف پر قائم تھے، میڈیا آزاد تھا اور وکلاء کا پیغام لوگوں تک پہنچ رہا تھا مگر موجودہ وقت مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندی کی وجہ سے وکلاء کا لوگوں سے رابطہ کٹ گیا ہے، تمام اہم عہدیدار گرفتار ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ روپوش ہیں۔

ایمرجنسی کے خلاف لگایا جانے والا ایک احتجاجی بینر

ادھر سندھ میں سیاسی جماعتوں کا بھی کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں کےگھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور کئی درجن کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ کراچی میں تین روز سے ان کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جس دوران ایک سوسے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔ تاہم سندھ پولیس نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری اور چھاپوں سے انکار کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکز بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سندھ سے جماعت کے حامی اکتالیس وکلاء گرفتار کیے گئے ہیں جن میں رکن صوبائی اسمبلی اور ڈسٹرکٹ بار لاڑکانہ کے صدر ایاز سومرو بھی شامل ہیں۔قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تین روز سے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے جاری ہیں اور کئی درجن کارکن حراست میں لیے گئے ہیں، تنظیم کی جانب سے جمعرات کو ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

لاہور
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پولیس نے وکلاء کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عمارت میں آنے کی اجازت دے دی ہے تاہم بار ایسوسی ایشن میں پولیس کی نفری بدستور تعینات ہے۔منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو بند کرکے وہاں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ میں ایمرجنسی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی گئی ہے

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری اعظم نذیر تارڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام وکلاء جو غیر سیاسی ہیں ان کی رہائی کے لیے ضمانت کی درخواستیں دائر کی جائیں گی جبکہ وکلا رہنماؤں نے ضمانت پر رہائی سے انکار کر دیا ہے۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے روبرو وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے وجہ سے مقدمات پر سماعت متاثر ہوئی جبکہ ہائیکورٹ کی عمارت کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں پولیس مامور رہی۔ دریں اثناء دوپہر کے وقت مسلم لیگ نواز کے ایک درجن کے قریب کارکنوں نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف اور وزیر اعظم نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے جس پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

پشاور
نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے وکلاء نے بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں ایمر جنسی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی ہے اور انہوں نے اب تک اپنے ایک سو اٹھاسی ساتھیوں کی گرفتاری کا دعوٰی کیا ہے۔ بدھ کو وکلاء نے پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے باقاعدہ بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں تقریباً تیرہ وکلاء نے چھ گھنٹے تک علامتی بھوک ہڑتال کی۔

دوسری طرف وکلاء ایکشن کمیٹی کے ایک رکن کفایت علی ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ بدھ کو بھی ان کے ساتھیوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور نوشہرہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے بار روم سے چار وکیلوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبہ بھر سے ایک سو اٹھاسی وکیلوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے ایک سو بیاسی کو ہری پور جبکہ چھ کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کی گرفتاری کے دعوے کیے ہیں

انہوں نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ حکومت نے اٹھائیس سو وکلاء کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے حکام سے بارہا رابطہ کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر بشیر احمد بلور اور سیکریٹری اطلاعات عاقل شاہ کو بھی گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ
بی بی سی کے نمائندے عزیزاللہ خان کے مطابق بلوچستان میں بھی وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ گرفتار وکلاء کو صوبے کی سخت ترین جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ضلع کچہری اور پریس کلب کے سامنے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری آج بھی تعینات ہے جبکہ وکلاء کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں میں صوبہ بھر سے ستّر سے زیادہ وکیلوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں یہ تعداد پینتالیس سے زیادہ بتائی گئی ہے اور وکلاء نمائندوں کے مطابق اب آئندہ سے روزانہ صرف دس وکیل گرفتاری دیا کریں گے۔ ان گرفتار وکیلوں کو سنٹرل جیل مچھ ،سبی اور لورالائی منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد
بی بی سی کے ذوالفقار علی کے مطابق بدھ کو اسلام آباد میں وکلاء اور طلبہ نے ایمرجنسی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ اس موقع پر پولیس موجود تھی لیکن انہوں نے مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ مظاہرے مں شامل بعض شرکاء نے کالی جھنڈیاں اٹھا رکھی تھیں اور وہ جنرل مشرف اور ایمرجنسی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ مظاہرے میں شریک بحریہ یونیورسٹی کے طالب علم عامر علی نے کہا کہ’ پاکستان میں آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کا سلسلہ کافی عرصہ سے چلا آرہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حکمرانوں کو یہ بتا دیں کہ لوگ آپ کے ساتھ نہیں ہیں‘۔

صوبہ سرحد
صوبہ سرحد کے ہزارہ ڈویژن میں وکلاء کی ہڑتال جاری ہے جبکہ ڈویژن میں گرفتار شدگان کی تعداد اب 70 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جن میں سے ایبٹ آباد سے چھتیس، ہری پور سے 25 اور مانسہرہ سے بارہ وکلاء گرفتار کیے گئے ہیں۔ایبٹ آباد سے پاکستان بارکونسل کے رکن جناب فضل حق عباسی نے بتایا کہ پاکستان بار کونسل کے فیصلوں کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا بائیکاٹ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا اور ضلعی عدالتوں کا اس ہفتے کے اختتام تک بائیکاٹ کیا جائے گا جس کے بعد سنیچر کو پشاور ہائی کورٹ بار کے فیصلے کی روشنی میں آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔ دریں اثناء جمعرات سے ایبٹ آباد ہائیکورٹ کی عمارت کے سامنے وکلاء اپنے مطالبات کے حق میں روزانہ علامتی بھوک ہڑتال بھی کریں گے۔

صدر جنرل پرویز مشرف مشرف کی ’جلدی‘
’کہیں وائس چیف بڑا ہو کر حق نہ مانگنے لگے‘
 جنرل مشرف مشرف پھنس گئے
جنرل مشرف نے صدر مشرف پر الزام لگائے۔
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
ایمرجنسیآمریت کا ہاتھی
’آپ ایک ڈکٹیٹر سے کیا توقع کر سکتے ہیں‘
پی پی پی’چاروں جانب سناٹا‘
منظم تحریک سیاسی جماعتوں کے بناء ناممکن
’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
بی بی سی اردو: خصوصی پروگرامخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
اسی بارے میں
پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج
06 November, 2007 | پاکستان
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد