ضلعی عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ،ججوں کی معطلی اورگرفتاریوں کے خلاف پاکستان بھر کے وکلاء نے مزید تین روز تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتوں نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں وکلاء تنظیموں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ تیسرے روز بھی جاری رکھا جبکہ کوئٹہ میں وکلاء نمائندوں کے مطابق اب آئندہ سے روزانہ دس وکیل گرفتاری دیا کریں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بائیکاٹ کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا ، جس میں میں آئندہ تین روز تک بائیکاٹ جاری رکھنے کا عزم کیا گیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صدر مشرف پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ایمرجنسی ختم کریں۔ ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلاء آئندہ تین روز تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور اتوار کو مزید لائحہ عمل طئے کیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل باڈی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ واپس لیا جائے ، دو نومبر کو جو صورتحال تھی اسے بحال کیا جائے اور وکلا، سول سوسائٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے احکامات کو حکومت واپس لے۔ وکلاء کی یکجہتی کمزور پڑنے کے بارے میں اختر حسین کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے وقت ججوں اور وکلاء ایک مقصد کے لیے ایک ہی موقف پر قائم تھے، میڈیا آزاد تھا اور وکلاء کا پیغام لوگوں تک پہنچ رہا تھا مگر موجودہ وقت مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندی کی وجہ سے وکلاء کا لوگوں سے رابطہ کٹ گیا ہے، تمام اہم عہدیدار گرفتار ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ روپوش ہیں۔
ادھر سندھ میں سیاسی جماعتوں کا بھی کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں کےگھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور کئی درجن کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ کراچی میں تین روز سے ان کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جس دوران ایک سوسے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔ تاہم سندھ پولیس نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری اور چھاپوں سے انکار کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکز بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سندھ سے جماعت کے حامی اکتالیس وکلاء گرفتار کیے گئے ہیں جن میں رکن صوبائی اسمبلی اور ڈسٹرکٹ بار لاڑکانہ کے صدر ایاز سومرو بھی شامل ہیں۔قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تین روز سے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے جاری ہیں اور کئی درجن کارکن حراست میں لیے گئے ہیں، تنظیم کی جانب سے جمعرات کو ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ لاہور
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری اعظم نذیر تارڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام وکلاء جو غیر سیاسی ہیں ان کی رہائی کے لیے ضمانت کی درخواستیں دائر کی جائیں گی جبکہ وکلا رہنماؤں نے ضمانت پر رہائی سے انکار کر دیا ہے۔ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے روبرو وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے وجہ سے مقدمات پر سماعت متاثر ہوئی جبکہ ہائیکورٹ کی عمارت کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں پولیس مامور رہی۔ دریں اثناء دوپہر کے وقت مسلم لیگ نواز کے ایک درجن کے قریب کارکنوں نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف اور وزیر اعظم نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے جس پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ پشاور دوسری طرف وکلاء ایکشن کمیٹی کے ایک رکن کفایت علی ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ بدھ کو بھی ان کے ساتھیوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور نوشہرہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے بار روم سے چار وکیلوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبہ بھر سے ایک سو اٹھاسی وکیلوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے ایک سو بیاسی کو ہری پور جبکہ چھ کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ حکومت نے اٹھائیس سو وکلاء کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے حکام سے بارہا رابطہ کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر بشیر احمد بلور اور سیکریٹری اطلاعات عاقل شاہ کو بھی گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ کوئٹہ ضلع کچہری اور پریس کلب کے سامنے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری آج بھی تعینات ہے جبکہ وکلاء کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں میں صوبہ بھر سے ستّر سے زیادہ وکیلوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں یہ تعداد پینتالیس سے زیادہ بتائی گئی ہے اور وکلاء نمائندوں کے مطابق اب آئندہ سے روزانہ صرف دس وکیل گرفتاری دیا کریں گے۔ ان گرفتار وکیلوں کو سنٹرل جیل مچھ ،سبی اور لورالائی منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد صوبہ سرحد |
اسی بارے میں آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں: جسٹس افتخار 06 November, 2007 | پاکستان پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج 06 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت بحال کریں: صدر بش05 November, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے ارد گرد کرفیو کا سماں 05 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری04 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||