آئین بحال کریں، وردی اتاریں ورنہ جلسہ بھی، لانگ مارچ بھی: بینظیر بھٹو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اگر جنرل مشرف نے وعدے کے مطابق وردی نہ اتاری، آئین بحال نہ کیا اور انتخاب وقت پر نہ کرائے تو ان کی جماعت دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر لانگ مارچ کرے گی۔ بینظیر بھٹو نے یہ اعلان اسلام آباد میں ’اے آر ڈی‘ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود وہ نو نومبر کو راولپنڈی میں جلسۂ عام منعقد کریں گی۔ انہوں نے اپوزیشن کی جماعتوں سے کہا کہ وہ لاہور سے اسلام آباد تک اے آر ڈی کے لانگ مارچ میں شریک ہوں۔ ان کے مطابق اگر پندرہ نومبر تک جنرل پرویز مشرف نے وردی نہیں اتاری تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ گرفتار بھی ہوجائیں تو آئین کی بحالی کی تحریک جاری رکھی جائے۔ بینظیر نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور سولہ نومبر تک عام انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ سابق وزیراعظم نے ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔ انہوں نے ججوں، وکلا اور سیاسی کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔بینظیر بھٹو نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں شامل ہوجائیں۔ بینظیر بھٹو نے بتایا کہ انہوں نے مسلم لیگ نواز کے اسحاق ڈار، عوامی نشینل پارٹی کے اسفند یار ولی اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو سے رابطے کیے ہیں۔
پیپلز سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ’اے آر ڈی، کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ نواز نے شرکت نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود بھی میزبان جماعت کا دعویٰ ہے کہ پندرہ سیاسی جماعتیں اور مختلف گروپس کے نمائندے شریک ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن جاری کردہ فہرست کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مہاجر قومی موومنٹ کے علاوہ کوئی بھی بڑی یا قابل ذکر سیاسی جماعت اس میں شریک نہیں ہے۔ مسلم لیگ نواز کی عدم شرکت کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آئین کی بحالی اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے بلائے گئے اہم اجلاس میں شرکت سے انکار کا کسی کو بہانا نہیں بنانا چاہیے جبکہ مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ ’اے آر ڈی‘ کا نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے ہم خیال گروہوں کا اجلاس تھا۔ ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے شاہراہِ دستور پر مظاہرے کے لیے جمع ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن جب مظاہرہ کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی باہر آ گئے جس کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج شروع کردیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ اس کے علاوہ پولیس متعدد کارکنوں کو گرفتار کر کے لےگئی۔ اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے ایمرجنسی کے نفاذ، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججوں کی معطلی اور بڑے پیمانے پرگرفتاریوں کے خلاف وکلاء برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ دس نومبر تک تمام ضلعی اور تحصیل عدالتوں کا بائیکاٹ کریں جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ غیرمعینہ مدت تک جاری رکھا جائے۔
عدالتی بائیکاٹ بیان کے مطابق جو وکلاء اس ہدایت کی مخالفت کریں گے اور عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش ہوں گے ان کی بار رکنیت ختم کر دی جائے گی۔ دریں اثناء ایمرجنسی کے نفاذ کے چوتھے دن ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے جس کی وجہ سے عدالتی کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ کراچی میں ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین کا کہنا ہے کہ وکلا آئندہ تین روز تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور اتوار کو مزید لائحہ عمل طئے کیا جائےگا۔ |
اسی بارے میں ضلعی عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ 07 November, 2007 | پاکستان اسمبلی میں شرکت نہیں: بینظیر06 November, 2007 | پاکستان انتخابات کا اعلان کیاجائے: بینظیر05 November, 2007 | پاکستان آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں: جسٹس افتخار 06 November, 2007 | پاکستان انتخابات شیڈول کے مطابق: اٹارنی جنرل05 November, 2007 | پاکستان انتخابات وقت پر کروانے کا اعلان05 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||