BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 November, 2007, 11:58 GMT 16:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئین بحال کریں، وردی اتاریں ورنہ جلسہ بھی، لانگ مارچ بھی: بینظیر بھٹو

بینظیر اور امین فہیم
پیپلزپارٹی کے علاوہ کوئی بھی سرکردہ سیاسی جماعت اجلاس میں شریک نہیں

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اگر جنرل مشرف نے وعدے کے مطابق وردی نہ اتاری، آئین بحال نہ کیا اور انتخاب وقت پر نہ کرائے تو ان کی جماعت دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر لانگ مارچ کرے گی۔

بینظیر بھٹو نے یہ اعلان اسلام آباد میں ’اے آر ڈی‘ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود وہ نو نومبر کو راولپنڈی میں جلسۂ عام منعقد کریں گی۔

انہوں نے اپوزیشن کی جماعتوں سے کہا کہ وہ لاہور سے اسلام آباد تک اے آر ڈی کے لانگ مارچ میں شریک ہوں۔ ان کے مطابق اگر پندرہ نومبر تک جنرل پرویز مشرف نے وردی نہیں اتاری تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ گرفتار بھی ہوجائیں تو آئین کی بحالی کی تحریک جاری رکھی جائے۔

بینظیر نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور سولہ نومبر تک عام انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ سابق وزیراعظم نے ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔

انہوں نے ججوں، وکلا اور سیاسی کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔بینظیر بھٹو نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں شامل ہوجائیں۔ بینظیر بھٹو نے بتایا کہ انہوں نے مسلم لیگ نواز کے اسحاق ڈار، عوامی نشینل پارٹی کے اسفند یار ولی اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو سے رابطے کیے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں اے آر ڈی کے لانگ مارچ میں شریک ہوں:بینظیر

پیپلز سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ’اے آر ڈی، کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ نواز نے شرکت نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود بھی میزبان جماعت کا دعویٰ ہے کہ پندرہ سیاسی جماعتیں اور مختلف گروپس کے نمائندے شریک ہیں۔ ان کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن جاری کردہ فہرست کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مہاجر قومی موومنٹ کے علاوہ کوئی بھی بڑی یا قابل ذکر سیاسی جماعت اس میں شریک نہیں ہے۔

مسلم لیگ نواز کی عدم شرکت کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آئین کی بحالی اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے بلائے گئے اہم اجلاس میں شرکت سے انکار کا کسی کو بہانا نہیں بنانا چاہیے جبکہ مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ ’اے آر ڈی‘ کا نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے ہم خیال گروہوں کا اجلاس تھا۔

ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے شاہراہِ دستور پر مظاہرے کے لیے جمع ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کارکن جب مظاہرہ کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی باہر آ گئے جس کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج شروع کردیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ اس کے علاوہ پولیس متعدد کارکنوں کو گرفتار کر کے لےگئی۔

اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے ایمرجنسی کے نفاذ، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججوں کی معطلی اور بڑے پیمانے پرگرفتاریوں کے خلاف وکلاء برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ دس نومبر تک تمام ضلعی اور تحصیل عدالتوں کا بائیکاٹ کریں جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ غیرمعینہ مدت تک جاری رکھا جائے۔

’سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ غیرمعینہ طور پر جاری رہے گا‘

عدالتی بائیکاٹ
نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق بار کی نیشنل ایکشن کمیٹی کے دستیاب اراکین سے مشورے کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پورے ملک میں ضلعی اور تحصیل عدالتوں کا بائیکاٹ دس نومبر تک جاری رکھا جائے، بارہ نومبر کے بعد وکلاء ماتحت عدالتوں میں پیش ہوسکیں گے تاہم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ غیرمعینہ طور پر جاری رہے گا۔

بیان کے مطابق جو وکلاء اس ہدایت کی مخالفت کریں گے اور عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش ہوں گے ان کی بار رکنیت ختم کر دی جائے گی۔

دریں اثناء ایمرجنسی کے نفاذ کے چوتھے دن ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے جس کی وجہ سے عدالتی کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ کراچی میں ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اختر حسین کا کہنا ہے کہ وکلا آئندہ تین روز تک عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور اتوار کو مزید لائحہ عمل طئے کیا جائےگا۔

صدر جنرل پرویز مشرف مشرف کی ’جلدی‘
’کہیں وائس چیف بڑا ہو کر حق نہ مانگنے لگے‘
پی پی پی’چاروں جانب سناٹا‘
منظم تحریک سیاسی جماعتوں کے بناء ناممکن
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
بات سے باتجنرل مشرف کاجواز
’جمہوری ہونے میں وقت لگے گا‘ وسعت اللہ
اسی بارے میں
اسمبلی میں شرکت نہیں: بینظیر
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد