BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سب سے پہلے پاکستان، کس کا

جنرل مشرف
پاکستان ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچا کہ یہاں کے لوگ مغربی انداز کی سیاسی و جمہوری آزادی یا بنیادی حقوق کے متحمل ہوسکیں
چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کی شام آئینِ پاکستان معطل کرنے کے بعد اپنی تقریر میں یہ وضاحت کر کے بہت اچھا کیا کہ پاکستان ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچا کہ یہاں کے لوگ مغربی انداز کی سیاسی و جمہوری آزادی یا بنیادی حقوق کے متحمل ہوسکیں۔ جس منزل تک پہنچنے میں مغرب کو صدیاں لگ گئیں وہاں پاکستان ساٹھ برس کی مختصر مدت میں کیسے پہنچ سکتا ہے۔

اس جرنیلی وضاحت کے بعد اب پاکستان اپنا جمہوری سفر باآسانی حمورابی، ، رعمیسس، اشوک، خسرو پرویزو اور جولیس سیزر کے دور سے شروع کر سکتا ہے۔ جب بادشاہ کی مخالفت کرنے والے کو مملکت کا غدار سمجھ کر ہاتھی کے پاؤں تلے دے دیا جاتا تھا۔ قلعے کی فصیل سے پھنکوا دیا جاتا تھا۔ کڑھاؤ میں تلوا دیا جاتا تھا، شہر پناہ کے دروازے سے لٹکوا دیا جاتا تھا۔ کھال میں بھوسہ بھروا دیا جاتا تھا یا آنکھوں میں گرم سلائی پھروا دی جاتی تھی۔

جب تک پاکستانی قوم ان تجربات کی بھٹی سے نہیں گذرے گی وہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کی قدر کیسے پہچانے گی۔ جنرل پرویز مشرف کی یہ بات بالکل بجا ہے کہ جمہوریت کے گرم گرم حلوے سے منہ جلانے کے بجائے پاکستانی قوم کو برداشت کی سان پر تیز کیا جائے۔

جس طرح جمہوریت کی جانب کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں جاتا اور اس کے لئے وقت اور تجربے کے پل صراط سے گذرنا پڑتا ہے۔ جنرل مشرف کو یہی فلسفہ معیشت پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔ ترقی کی قدر اسی وقت ہوگی جب جنرل مشرف کرنسی کے لین دین کی جگہ جنس کے بدلے جنس یعنی بارٹر سسٹم سے اس قوم کو گذاریں۔ کاروں اور بسوں کی جگہ اونٹ اور گھوڑے کی سواری سے ترقی

اپنا پہیہ خود ایجاد کریں
 ترقی کی قدر اسی وقت ہوگی جب جنرل مشرف کرنسی کے لین دین کی جگہ جنس کے بدلے جنس یعنی بارٹر سسٹم سے اس قوم کو گذاریں۔ کاروں اور بسوں کی جگہ اونٹ اور گھوڑے کی سواری سے ترقی کا سفر شروع کروائیں۔اپنا پہیہ خود ایجاد کریں
کا سفر شروع کروائیں۔اپنا پہیہ خود ایجاد کریں۔ ماچس پر پابندی لگوا کر چقماق سے چولہا جلانے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔اس مشق کے بعد جب پاکستانی قوم جدیدیت کے دور میں داخل ہوگی تو پھر اس کی ترقی کبھی پٹڑی سے نہیں اترے گی۔

لیکن یہ سب کروانے کے لئے ایک ایسے جری حکمران کی ضرورت ہے جو ہرطرح کی مصلحت بالائے طاق رکھ کر قوم کے سرکش گھوڑے پر سواری کرسکے۔ مارشل لا، ایمرجنسی، عبوری آئین یا مرحلہ وار جمہوریت جیسی کنفیوژن بڑھانے والی اصطلاحات سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوالے اور کب وردی پہنوں کب شیروانی اتاروں کے مخمصے سے آزاد ہو کر نظریہ ضرورت کو پاکستان کی بنیادی آئینی دستاویز قرار دے دے۔

اس تناضر میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف ہی اس قوم کی واحد امید اور سہارا نظر آتے ہیں۔ جن کا ہمیشہ سے نعرہ ہے سب سے پہلے پاکستان۔
جنرل مشرف کا پاکستان۔

بات سے باتکسے ڈراؤ گے؟
پانچ ارب ڈالر کا اسلحہ؟ وسعت اللہ خان
بات سے باتپتنگے جل مرتے ہیں
کارکن کی حیثیت کب پتنگوں سے زیادہ تھی
بات سے باتقسمت کا لکھا
تبدیلی کی آرزوؤں کو کون پورا کر سکتا ہے
بات سے باتبگٹی کی بیلنس شیٹ
قلات میں سرادری جرگے اور تقاریر کا کیا ہوا؟
بات سے باتسوال سے امید
پڑپوتی کے سوالات پر ایشور لال کا اطمینان
آزادی کے ساٹھ سال
سٹھیائے نہ تو پاکستان، بھارت فائدے میں رہینگے
بات سے باتپاکستانی شطرنج
نہ کھلاڑی بدلتے ہیں نہ بازی ختم ہوتی ہے
اسی بارے میں
مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان
01 April, 2007 | قلم اور کالم
ایشور لال کا خط
12 August, 2007 | قلم اور کالم
گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت
18 March, 2007 | قلم اور کالم
غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ
09 July, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد