پتنگے جل مرتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلیں یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ دھماکوں کے فوراً بعد عوامی بارات کی دلہن کو برق رفتاری سے ان کے گھر پہنچا دیا گیا۔ لیکن ٹرک میں سوار پیپلز پارٹی کے دیگر مرکزی، مقامی اور غیر مقامی رہنما جو دھماکے سے قبل پرجوش انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر کارکنوں اور عوام کے لے بچھے جا رہے تھے اپنے بھوکے پیاسے چاہنے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو ایدھی اور چھیپا ایمبولینسوں اور غریب رضاکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بی بی کے پیچھے پیچھے بلاول ہاؤس کیوں پہنچ گئے۔ اور پھر دیواروں کے پیچھے سے ٹی وی چینلز کو تازہ ترین المناک صورتحال بتانے لگے۔ ٹی وی سکرین پر لائیو آنے والے دو رہنما تو ایسے بھی تھے جن کے بارے میں اسکرین پر پٹی چل رہی تھی کہ وہ بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔ لیکن ان رہنماؤں سے اور کیا توقع ہوسکتی ہے جن میں سے اکثر سینکڑوں میل پرے اپنے سادہ لوح حامیوں کو بسوں اور ویگنوں میں کراچی کے لیے سوار کروا کر خود بذریعہ طیارہ کراچی پہنچے تاکہ بی بی کے ٹرک پر سوار ہونے سے نہ رہ جائیں۔
یہ بحث تو قیامت تک جاری رہ سکتی ہے کہ دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ حفاظتی انتظامات کا معیار کیا تھا۔ کس نے کس کو وارننگ دی اور کس نے کیوں کان نہیں دھرا۔لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ فول پروف انتظامات، ایک درجن سے زائد بم ڈسپوزل اسکواڈز، پولیس کمانڈوز کے حفاظتی حصار اور دھماکہ خیز مادے کو پھٹنے سے روکنے کے آلات نصب کرنے کے دعویداروں کا دھیان اس طرف کیوں نہیں گیا کہ اگر سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوتے ہیں تو انہیں کیسے اور کہاں کہاں فوراً منتقل کیا جائے گا؟ ہمیشہ کی طرح صرف تین سرکاری اسپتالوں میں ہی ہنگامی انتظامات کیوں کیے گئے؟ ایک غیر معمولی جلوس کے پیشِ نظر بڑے بڑے نجی اور فوجی اسپتال کیوں الرٹ نہیں ہوسکے اور واردات کے کئی گھنٹے بعد جب سب زخمیوں کو صرف تین اسپتالوں میں ٹھونسا جا چکا تھا ۔صدرِ مملکت کو فوجی اسپتال کھلوانے کے لیے ذاتی حکم کیوں دینا پڑا؟ سرکاری اور فوجی ایمبولینسیں کہاں تھیں؟ حکومت یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوئی ناگہانی تھی۔ حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پچھلے دو برس سے بالخصوص ایسی کونسی ریلی یا وی آئی پی قافلہ ہے جس کے ساتھ موت کا آسیب نہ چلتا ہو۔ بات یہ ہے کہ جس طرح لگڑ بگوں، جنگلی کتوں اور تیندووں کو معلوم ہوتا ہے کہ دس ہزار بارہ سنگھوں کا ریوڑ بھی ایک درجن درندوں کو دیکھتے ہی بچوں اور کمزور ساتھیوں کو ساتھ لیے بغیر سرپٹ بھاگ نکلتا ہے ۔اسی طرح خود کش بمبار بھی یہ راز جان چکے ہیں کہ فوٹو سیشن کے بھوکے رہنماؤں، ایڈھاک ازم کی گھٹی پر پلنے والے کام چلاؤ اہلکاروں اور واردات کے بعد واویلا کرنے والے پیشہ ور حاکموں کے دل و دماغ کسی بھی طرح کے مشنری جذبے سے خالی ہوچکے ہیں۔ رہے خواب دیکھنے والے کارکن اور محروم لوگ تو ان کی حیثیت کب ان پتنگوں سے زیادہ تھی جو روشن مستقبل کی شمع کی طرف لپکتے ہیں اور جل مرتے ہیں۔ | اسی بارے میں مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم ایشور لال کا خط12 August, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت11 March, 2007 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||