اسمبلی میں شرکت نہیں: بینظیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کی تاحیات چئرپرسن بینظیر بھٹو نے اسلام آباد آمد کے فوراً بعد اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی اور احتجاج کرے گی۔ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک سے ہنگامی حالت کے فوراً خاتمے کا مطالبہ کیا۔ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا ان کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے تا کہ تحریک برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ کو فعال کیا جا سکے۔ پیپلز پارٹی کی سربراہ نے نو نومبر کو راولپنڈی میں لیاقت باغ میں جلسے میں ہنگامی حالت کے خلاف احتجاج کی بھی اپیل کی۔بینظیر کی اخباری کانفرنس سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ صدر سے مفاہمت کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے مختصر بات چیت میں بینظیر کا کہنا تھا کہ ان کا صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت نے پہلے ہی انتخابات ایک سال تک ملتوی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تاخیر کا اعلان کرے گی۔ ادھر بی بی سی اردو کے نمائندے ارمان صابر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے اے آر ڈی اجلاس کے حوالے سے بینظیر کے بیان پر کہا ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کی ہم خیال جماعتوں کا اجلاس تو ہو سکتا ہے لیکن اے آر ڈی کا اجلاس نہیں ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی اور سیکرٹری ظفر اقبال جھگڑا ہیں اور کسی بھی جماعت کا اجلاس سیکرٹری بلاتا ہے اور جب سیکرٹری کو ہی نہیں معلوم تو یہ اے آر ڈی کا اجلاس نہیں بلکہ پپلز پارٹی کی ہم خیال جماعتوں کا اجلاس ہے اور اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے علاوہ جماعتیں صرف کاغذ پر اپنا وجود رکھتی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ اے آر ڈی غیر فعال ہے کیونکہ ہم نے پیپلز پارٹی کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جب تک پیپلز پارٹی اس بات کی یقین دہانی نہیں کراتی کہ اس نے جنرل پرویز مشرف سے تمام رابطے توڑ لیے ہیں اور وہ جمہوری جدوجہد میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے اس وقت تک اے آر ڈی کو فعال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز کے رہنماء پیپلز پارٹی کی جانب سے بلائے گئے اے آر ڈی اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم اے پی ڈی ایم کا حصہ ہیں اور اے پی ڈی ایم کو اعتماد میں لیے بغیر کیسے شریک ہو سکتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک مفاہمتی عمل میں شریک ہو چکی ہے اور ایسے اجلاس میں شریک ہو کر ہم اپنی جدوجہد کو خراب نہیں کر سکتے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||