بم دھماکوں کی جگہ کویادگارکا درجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کی ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں کو کراچی کی حالیہ تاریخ کی بدترین پرتشدد کارروائی قرار دیا جاتا ہے جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، شاہراہِ فیصل پراس مقام پرجہاں اٹھارہ اکتوبر کو بم دھماکے ہوئے ایک یادگار بنا دی گئی ہے۔ شاہراہِ فیصل سے برق رفتاری کے ساتھ گزرنے والی گاڑیوں میں سوار افراد کی توجہ ایک لمحے کے لئے کار ساز پل کے قریب اس مقام پر ضرور مرکوز ہوتی ہے۔ ان دھماکوں میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی تھی جبکہ پی پی پی کی تاحیات چئرپرسن بلُٹ پروف ٹرک میں سوار ہونے کی وجہ سے محفوظ رہی تھیں۔ اب یہ مقام ایک یادگار کا درجہ اختیار کرتا جارہا ہے، اس مقام پر ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے دونوں شاہراہوں کے درمیان بنی گرین بیلٹ کے ایک حصے کو رسی لگا کر مقامِ عقیدت قرار دے دیا اور اُس کے چاروں جانب چراغ نصب کردیے ہیں۔ یہاں کوئی چراغاں کر کے اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے تو کوئی گلُ پوشی کرتا ہے اور کوئی یہاں مرنے والوں کو خراجِ تحسیں پیش کرنے کے لئے گلدستے رکھتا ہے اور اگربتیاں جلاتا ہے۔ اس مقام پر پیپلزپارٹی کے جھنڈوں کے ساتھ ایک بینر بھی لگا ہوا ہے جس پر یہ شعر تحریر ہے۔ پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر راشد ربانی نے بتایا کہ یہ یادگار پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے اپنے طور پر بنائی ہے اور آنے والے وقت میں پارٹی کی جانب سے اس مقام پر شہداء کی ایک باقاعدہ یادگار تعمیر کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں بم دھماکے کے بعد فضا سوگوار19 October, 2007 | پاکستان اٹھارہ اکتوبر: کراچی کی زندگی پر اثرات26 October, 2007 | پاکستان کراچی: خود کش حملے کو تقویت22 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی زخمیوں کی عیادت21 October, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکوں کی تفتیش جاری20 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||