ارمان صابر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | دھماکے کے بعد لوگوں نے خود بھی لوگوں کو طبی امداد کے لیے پہنچایا |
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیشی ٹیم کو بکھرے ہوئے انسانی اعضاء میں سے ایک اور سر مل گیا ہے جس کے بعد اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ دونوں بم دھماکے خودکش حملے ہوسکتے ہیں۔ وزیرِاعلیٰ سندھ کے مشیرِداخلہ وسیم اختر نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ بم دھماکوں میں کئی افراد کے اعضاء بکھر گئے تھے جنہیں ہسپتال پہنچایا گیا تھا اور ان انسانی اعضاء میں ایک سر ملا ہے جبکہ چہرہ بری طرح مسخ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب اس چہرے کو سرجری کے ذریعے قابل شناخت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا سر ملنے کے بعد اس بات کو اگرچہ تقویت ملتی ہے کہ دونوں بم دھماکے خودکش حملے ہوسکتے ہیں کیونکہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے تاہم اس مرحلے پر یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، اور ابھی اس سلسلے میں تفتیش کی جارہی ہے‘۔ بم دھماکوں کی تفتیش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور تفتیشی عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جو چہرہ ملا تھا، جس پر خودکش حملہ آور ہونے کے شبہ کا اظہار کیا جارہا ہے، اس کی بھی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے اور اس بابت نادرا یعنی نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی سے بھی مدد حاصل کی گئی ہے۔ سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی پر ان کے استقبالیہ قافلے میں شارع فیصل پر کارساز موڑ کے قریب دو بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 139 افرد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جبکہ ان حملوں میں بینظیر بھٹو بال بال بچ گئیں تھیں۔
 | | | بینظیر بھٹو نے دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی |
واضح رہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے بم دھماکوں کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی خصوصی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی منظور مغل نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پہلا دھماکہ ہینڈ گرینیڈ سے کیا گیا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ خودکش حملہ آور نے کیا تھا۔کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ اب تک بم دھماکوں کے سلسلے میں کسی بھی فرد کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے جب کہ تفتیش کے دوران چند اہم نکات ضرور ملے ہیں اور انہی خطوط پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تفتیش میں اب تک کی پیش رفت کے بارے میں اِس وقت کچھ بتانے سے تفتیش متاثر ہوسکتی ہے۔ |