کراچی:صدارتی انتخاب، بڑھتی کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوں جوں صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں کراچی میں سیاسی صورتحال روز بروز کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ پیر کو چار وکلاء کی ہلڑ بازی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں گرفتاری کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں پر بھی دباؤ بڑھتا نظر آتا ہے۔ سنیچر کو صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران وکلاء کی جانب سے ہونے والے احتجاج کے بعد کراچی کے چار وکلاء کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیونکہ گرفتاریاں اتوار کی چھٹی سے قبل ہوئیں تھیں اس لئے وکلاء کے پاس فوری ضمانت حاصل کرنے کا یہی راستہ تھا کہ وہ براہ راست سندھ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد سے رابطہ کریں۔ ’ان چاروں کی گرفتاری قابل ضمانت الزامات پر ہوئی اور پولیس اگر چاہتی تو خود بھی ان کو ضمانت پر رہا کر سکتی تھی۔ لیکن ہم سمجھتے تھے کہ پولیس شاید ایسا نہ کرے۔ اسی لیے ہم چیف جسٹس کے گھر گئے۔‘ ابرار حسن کے مطابق جسٹس صبیح الدین نے سندھ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاضی خالد علی سے مشورہ کرنے کے بعد پولیس کو ضمانت کی ہدایات جاری کیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بڑی تگ ودو کے بعد گرفتار وکلاء کو شیر شاہ تھانے کے بیت الخلاء سے برآمد کیا گیا۔
زیادہ تر وال چاکنگ ہائی کورٹ کی بیرونی دیواروں پر کی گئی جبکہ بینرز ہائی کورٹ اور سندھ اسمبلی بلڈنگ کے درمیان چوک پر نمایاں طور پر لگائے گئے۔ ہائی کورٹ کے جج صاحبان کے داخلے کے لئے مخصوص گیٹ کی دیواروں پر بھی وال چاکنگ کی گئی جبکہ ایک بینر سندھ اسمبلی بلڈنگ اور اس کے سامنے ایک پٹرول پمپ پر بھی لگایا گیا تاکہ وہاں سے گذرنے والے اسے با آسانی دیکھ سکیں۔ پیر کو یہ بینرز تو ہٹا دیے گئے تاہم وال چاکنگ بدستور برقرار ہے۔ اسی روز کراچی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ انوار عالم نے وکلاء کی ’راتوں رات‘ ضمانت پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وال چاکنگ کے بارے میں انہیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تاہم اگر کوئی شکایت کی گئی اور جرم قابل دست اندازی پولیس ہوا تو ضرور کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ریاست کی جانب سے اس پر کارروائی عمل میں نہیں لاسکتی کیونکہ یہ وال چاکنگ ریاست کے خلاف نہیں بلکہ فرد واحد کے خلاف کی گئی ہے۔
جب بی بی سی ارود ڈاٹ کام نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن سے پوچھا کہ بینرز لگانے والے اور وال چاکنگ کرنے والے کون ہو سکتے ہیں تو ابرار حسن نے کہا کہ ’سب کو معلوم ہے وہ کون لوگ ہیں اور ان کے بارے میں مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ ابرار حسن کا محتاط رویہ بھی کراچی میں وکلاء برادری پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی ایک مثال ہے۔ اتوار کی رات اچانک گلشن اقبال میں ابرار حسن کے گھر کے باہر کے دونوں دروازوں کے سامنے گہرے گڑھے کھود دیے گئے جس سے گھر میں آنے جانے والوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ ابرار حسن کا کہنا ہے کہ یہ قدم وکلاء کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل انہیں دھمکی آمیز خطوط بھی ملتے رہے ہیں جن میں انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی قبر تیار کرا لیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں وکلاء کے نمائندوں اور عدلیہ کے اہلکاروں پر یہ دباؤ اس وقت سے بدستور بڑھنا شروع ہوا جب سندھ ہائی کورٹ نے شہر میں بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے چھان بین شروع کی تھی۔ اس دوران دس ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ کو ایک دن اپنی کارروائی اس وقت روکنا پڑی جب بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے کارکن اپنے اپنے حلف نامے جمع کرانے کے لیے عدالت میں اکٹھے ہو گئے۔ ایک دن پہلے چند وکلاء کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات پر ایم کیو ایم کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ اسی دن ایک سینئر وکیل راجہ ریاض کو ہائی کورٹ جاتے ہوئے گورنر ہاؤس کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس کے پانچ روز بعد ایک اور وکیل عتیق قادری کو کورنگی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کر دیا گیا۔ ان واقعات کے پیچھے کون ہو سکتا ہے اس سوال پر سندھ حکومت سمیت کراچی میں کوئی بھی رائے دینے کو تیار نہیں۔ لیکن اس سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ بارہ مئی کے فسادات کے از خود عدالتی نوٹس کے ساتھ ساتھ صدارتی انتخابات کے قضیے نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کے تقریباً ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||