سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ اور سیاسی جماعتوں کی سے طرف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ اور تمام ماتحت عدالتوں میں چوتھے روز بھی وکلاء کی ہڑتال کے باعث عدالتوں میں کام نہیں ہوسکا۔ پشاور میں عدالتیں تو کھلی رہیں تاہم وکلاء کی عدم موجودگی کی وجہ سے کوئی کام نہیں ہوا۔ پشاور ہائی کورٹ میں دو عدالتیں سارا دن کھلی رہیں جس میں عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے والے جج موجود رہے لیکن سرکاری وکلاء کے علاوہ کوئی وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔
پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر وکلاء نے پولیس کی سخت سکیورٹی میں ایک جلسہ کیا جس میں پاکستان بھر میں وکلاء کی گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر ایک بھوک ہڑتال کیمپ بھی لگایا گیا ہے جو صبح سے لیکر عدالتوں کا وقت ختم ہونے تک جاری رہتا ہے۔ کیمپ میں ایک درجن کے قریب وکلاء موجود رہے۔ کیمپ کے اردگر اور ہائی کورٹ کے احاطے میں دیواروں پر بڑے بڑے بینرز لگائے گئے ہیں جس میں ’ جی ایچ کیواور پی سی او نامنظور نامنظور، عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی اور ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘ جیسے نعرے درج تھے۔ پشاور ہائی کورٹ کے اندر اور باہر گزشتہ دنوں کے مقابلے میں آج سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ ہائی کورٹ کے برامدے اور عدالتوں کے دروازوں پر پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر بھی بھاری نفری تعینات تھی۔ ادھر جماعت اسلامی نے جمعرات کو پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرہ صوبائی رہنماؤں کی قیادت میں منعقد ہوگا۔ |
اسی بارے میں اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے05 November, 2007 | پاکستان ضلعی عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ 07 November, 2007 | پاکستان معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘07 November, 2007 | پاکستان ’سوات میں غیر ملکی موجود ہیں‘31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||