’سوات میں غیر ملکی موجود ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے نگراں وزیرِ اعلٰی شمس المُلک نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ سوات میں غیر مُلکی جنگجو موجود ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اُن کی تعداد کے بارے معلوم نہیں۔ ضلع سوات کے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر مشتمل یہ جرگہ بدھ کو پشاور میں نگراں وزیرِ اعلی شمس الملک کی سربراہی میں منعقد ہوا جس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مسئلے کا پُرامن حل تلاش کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا ’ایکشن تو جو ہوگا وہ ہوگا، البتہ میری دعا ہے کہ ہم کو پولیس بھی استعمال نہ کرنی پڑے اور شرپسند علاقے سے نکل جائیں اور سوات میں امن قائم ہو سکے۔‘ نگراں وزیرِ اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کے دوسری جانب سے رابطے ہو رہے ہیں ۔’لیکن ہمارا پیغام بڑا واضح ہے کہ حکومت اپنی عملداری کی راہ میں کسی قسم کا رخنا برداشت نہیں کرے گی۔‘ اس سے پہلے نگراں وزیرِ اعلیٰ نے سوات سے آئے ہوئے جرگہ کے ارکان سے اُن کے علاقے میں قیام امن کے حوالے سے بات چیت کی اور سوات میں امن قائم کرنے کے لیے اُن کی جانب سے دیے گئے مشوروں کو سُنا۔
جرگہ کا مقصد بیان کرتے ہوئے نگراں وزیرِ اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ اُنہوں نے جرگہ کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوام کو منظم کریں تاکہ حالات خراب ہونے کی صورت میں عوامی سطح پر بھی اس کا سدِ باب کیا جا سکے۔ سوات میں حالیہ جنگ بندی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ جنگ بندی حکومت کی ایما پر ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا ’مجھے جو بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اُن کی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کی گئی ہے ہماری طرف سے نہیں ہوئی۔‘ پشاور میں سوات کی صورتِحال بہتر بنانے کے لیے منعقد ہونے والے جرگہ کے علاوہ سوات سے ملحق ضلع دیر بالا میں بھی بُدھ کو مقامی حکومت کی دعوت پر ایک جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقے کے عمائدین، مختلف سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور عوام نے شرکت کی۔ جرگہ میں ضلع ناظم طارق اللہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نجم الدین خان ، سابق صوبائی وزیر اور جماعتِ اسلامی کے رہنما عنایت اللہ خان اور جمیعت علماءِ اسلام کے رہنما گل محمد کے علاوہ علاقے کے دیگر سرکردہ رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔ جرگہ نے صوبائی حکومت کوسوات کے مسئلے کے پُرامن حل کے لیے اور کالعدم تحریک ِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے حکومت کو مطلوب رکن مولانا فضل اللہ سے رابطہ کر کے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے میں مدد دینے کی پیشکش کی۔ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ مالاکنڈ میں شریعہ ریگولیشن مجریہ انیس سو نناوے کے نفاذ کے باوجود علاقے میں شریعت کے مطابق سستا اور آسان انصاف مہیا کرنے کو یقینی نہیں بنایا جاسکا جس سے مسائل مزید اُلجھے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||