غیرملکی نہیں ہیں، مگر آ سکتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع سوات میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر سوات میں جاری لڑائی میں شدت آتی ہے تو غیر ملکی جنگجو ان کی مدد کے لیے علاقے میں پہنچ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں معاملات مقامی طالبان کے ہاتھوں سے نکل کر مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ضلع سوات میں تحصیل کبل کے کمانڈر اکبر حسین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ علاقے میں غیر ملکی شدت پسند موجود ہیں۔ تاہم انکا دعوی ہے کہ مقامی طالبان القاعدہ، افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں اور اگر حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کی تو انہیں مدد کے لیے بلایا جاسکتا ہے۔ انکے بقول’اس وقت علاقے میں کوئی غیر ملکی جنگجو موجود نہیں ہے اورلڑنے والے تمام افراد مقامی ہیں۔ ہم القاعدہ، افغانستان، اور قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے مدد کے لیے آنے کی پیشکش کی ہے تاہم ہم نے انہیں کہا ہے کہ یہ ہمارا مقامی مسئلہ ہے اور بات چیت ہی کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ یہاں پر آباد لوگوں پر ہمارا اثر و رسوخ زیادہ ہے اگر باہر سے جنگجو آئے تو حالات ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘
اکبر حسین نے ماضی میں افغانستان پر امریکی حملے کے دوران کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی کے اسیر رہنما مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں تقریباً دس ہزار مسلح افراد کے افغانستان کے طالبان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’ماضی میں ہمارے مسلح ساتھی جنگ کے دوران دیگر علاقوں کے مشتبہ شدت پسندوں کی مدد کے لیے پہنچے ہیں اور اب جب ہم حالت جنگ میں ہیں تو وہ ہماری مدد کے لیے کیوں نہیں آئیں گے۔‘ طالبان کمانڈر نے حالیہ لڑائی کے دوران فوجیوں کے مارے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔انکے بقول’ہمیں افسوس ہے کہ لڑائی میں فوجی اور عام لوگ دونوں مر رہے ہیں جبکہ دونوں ہی مسلمان ہیں۔ فوج قوم کا سرمایہ ہے جس پر ہم پچاسی فیصد سے زیادہ بجٹ خرچ کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ بھی اس ملک کے باشندے ہیں اور ملکی معاملات کو بہتر جانتے ہیں ۔انکے مطابق’ ہم ملکی معاملات سے بخوبی واقف ہیں، اگر ناواقف ہیں تو جنرل پرویز مشرف ہیں۔انہیں ہماری تہذیب، ثقافت، اور تمدن کے بارے میں کوئی سمجھ نہیں ہے۔انہیں نہیں معلوم کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ وہ تو ہمیں چند شرپسند کہتے ہوئے نمٹنے کی بات کرتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے علاقے میں آئے ہوئے فوجی افسران سے کئی بار جرگے میں بیٹھ کر بات کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ لوگ ان کی علاقے میں آمد اور کارروائی پر خوش نہیں ہیں لہذا اپنے افسران بالا کو ان حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ تاہم ان کے دعوے کے مطابق فوجی افسران وقتی طور پر کارروائی بند کر کے دیگر لوگوں کے کہنے پر دوبارہ شروع کردیتے ہیں۔ اکبر حسین نےسوات میں حالیہ لڑائی کے دوران آٹھ اہلکاروں کا گلا کاٹ کر مارے جانے کے واقعات کو لال مسجد کے آپریشن کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسے لوگوں کا رد عمل قرار دیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ لال مسجد کے آپریشن میں فوجیوں نے طلباء اور طالبات کو ہلاک کر کے ان کے’ ٹکڑے ٹکڑے‘ کر دیے اور آج ان کے عزیز و اقارب انتقام لینے کی غرض سے ان فوجیوں کا تعاقب کرکے انہیں حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔
طالبان کمانڈر نے مالا کنڈ ڈویژن میں اپنی تنظیمی ساخت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل اللہ ان کے امیر اور امام ڈھیرئی میں عمر بن خطاب نامی مرکز انکا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ان کے مطابق سوات میں ہر گاؤں کی سطح پر ایک کمانڈر ہے جبکہ خود ان کے زیر کمان صرف کبل میں پانچ سو مسلح افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھیوں اور علاقے کی خواتین نے زمینیں، سونا اور مال مویشی بیچ کر حاصل ہونے والی رقم تنظیم کو عطیہ کی ہے جس سے انہوں نے بڑی تعداد میں بھاری اسلحہ خریدا ہے۔ اکبر حسین نے دعوی کیا کہ خود کش حملے کرنے کے لیے ان کے پاس بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا ہے اور اگر مذاکرات سے مسئلے کا حل نہیں نکلا تو سوات کا حشر عراق سے بھی برا ہوگا۔ اکبر حسین نے انٹرویو کے دوران کہا کہ’ ہم جنگ نہیں چاہتے کیونکہ ہم بھی انسان ہیں۔ ہمارے گھر خالی پڑے ہیں۔ کیا آپ لوگوں کی طرح ہمارا دل نہیں کرتا کہ ہم بھی اپنے بال بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں اور آرام کی زندگی بسر کریں مگر ہمیں مجبور کیا گیا ہے۔ حکومت خالی خولی وعدوں کے بجائے شرعی نظام نافذ کرکے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیےحل کر دے‘۔ طالبان انٹیلیجنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس انٹیلیجنس کے لیے تربیت یافتہ افراد ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں مختلف مقامات پر جہادی تنظیموں کی جانب سے خصوصی تربیت حاصل کی ہے۔ |
اسی بارے میں سوات:عارضی جنگ بندی کا اعلان29 October, 2007 | پاکستان سوات: سینکڑوں کی نقل مکانی28 October, 2007 | پاکستان جمعہ کی لڑائی کے بعدسوات پر سکون27 October, 2007 | پاکستان سوات میں تجارتی سرگرمیاں متاثر27 October, 2007 | پاکستان سوات میں لڑائی تھم گئی26 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||