BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 October, 2007, 20:50 GMT 01:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ

سوات میں تشدد کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے تازہ حملے میں سکیورٹی فورسز کے تقریباً بیس اہلکاروں کی ہلاکت اور چونتیس کے زخمی ہونے کے ساتھ ہی رواں سال کے پہلے دس ماہ کے دوران سوات میں تشدد کے مختلف وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ترسٹھ جبکہ زخمیوں کی ایک سو چالیس تک پہنچ گئی ہے جن میں زیادہ تر حکومتی اہلکار شامل ہیں۔

صوبہ سرحد کےضلع سوات میں سکیورٹی فورسز پر تازہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایک روز قبل ہی صوبے میں قائم نگران حکومت نے علاقے میں ’حکومتی عملداری ، کو بحال کرنے کے لیے وہاں پر سکیورٹی فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کیا تھا۔

اگرچہ صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقہ ملاکنڈ ڈویژن کو چند سال قبل کلعدم نفاذ شریعت محمدی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا جس کے سینکڑوں مسلح کارکنوں نے نوے کی دہائی میں تنظیم کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں علاقے میں شریعت کے نفاذ کےلیے حکومتی دفاتر پر قبضہ کرلیا تھا تاہم امریکہ پرگیارہ ستمبر کو ہونے والےحملوں کے بعد پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اس تنظیم پر پابندی لگا دی۔

ضلع سوات میں کئی سال کی خاموشی کے بعد تقریباً دو سال قبل کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے اسیر رہنما مولانا صوفی محمد کے داماد بتیس سالہ مولانا فضل اللہ نے امام ڈھیرئی کے مقام پر ایک غیر قانونی ایف ایم اسٹیشن قائم کرکے مغربی ممالک کی پالیسیوں، ٹیلی ویژن، موسیقی، این جی اوز اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کےخلاف اور جہاد کے حق میں تقاریر شروع کردیں جس کے نتیجے میں انہیں علاقے میں کافی شہرت حاصل ہوئی۔

ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب رواں سال کے اوائل میں سوات پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا تو ایف ایم چینل پر ان کی گرفتاری کے اعلان ہونے کےساتھ ہی تقریباً چھ ہزار لوگوں نے نکل کر پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور انہیں زبردستی پولیس کی حراست سے آزاد کرا دیا۔

سوات میں سیاحوں کے لیے بہت کشش موجود ہے

افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے والےمولانا فضل اللہ نے اپنی مقبولیت سے استفادہ کرتے ہوئے دریائے سوات کے کنارے امام ڈھیرئی کے مقام پر ڈیڑھ کروڑ کی لاگت سے ایک بہت بڑے دینی مدرسے کی تعمیر شروع کردی جس کے لیے انہوں نےایف ایم چینل کے ذریعےعام لوگوں سے عطیات جمع کیے جس میں عورتوں کے زیورات سے حاصل ہونے والی خطیر رقم بھی شامل تھی۔

حکام کے مطابق مولانا فضل اللہ کے حامیوں نے سن دو ہزار چھ کے دوران مبینہ طور پر ’حکومتی عملداری ،کو چیلنج کرنا شروع کردیا تھا اور انہوں نے’ شاہین فورس‘ کے نام سے ایک ’ مسلح تنظیم، بھی تشکیل دی جس کے تقریباً پانچ ہزار مسلح افراد نے مبینہ طور بازاروں میں گشت کرنا شروع کردیا۔ تاہم ضلع سوات میں امن و امان کی صورتحال اس وقت زیادہ خراب ہوگئی جب حکومت نے اسلام آباد میں لال مسجد کیخلاف آپریشن کرنے کا عندیہ دیا جس کے ردعمل میں مولانا فضل اللہ نے سوات میں ہزاروں لوگوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی وہ ’ جہاد‘ کا اعلان کردیں گے۔آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی سب سے پہلا ردعمل ضلع سوات میں دیکھنے میں آیا جب نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں مٹہ کے پولیس اسٹیشن پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک جبکہ چھ کو زخمی کردیا تھا۔

مولانا فضل اللہ صوفی محمد کے داماد ہیں

اس واقعے کے بعد سوات میں تشدد کے واقعات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا جس کو روکنے کے صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے پہلی بار مرکزی حکومت سے ملاکنڈ ڈویژن میں فوج کی تعیناتی کی سفارش کی مگر جماعت اسلامی کے دباؤ کے بعد سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی نے شہری علاقوں سے فوج کے انخلاء کی سفارش کی۔

متحدہ مجلس عمل کی جانب سے سرحد اسمبلی کی تحلیل کے بعد مرکزی حکومت کو صوبے میں اپنی مرضی کے اقدامات کرنے کاایک سنہری موقع ہاتھ آیا اور واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک کو نگران وزیراعلی مقرر کرکے ضلع سوات میں دوبارہ بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا تاکہ وہاں پر حکومتی عملدای قائم کی جاسکے۔

اگرچہ حکومت نے مولانا فضل اللہ کیخلاف فوجی آپریشن نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اضافی دستوں کی آمد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر مولانا فضل اللہ سوات سے دور دراز علاقے دیر منتقل ہوگئے ہیں جہاں وہ کسی بھی حکومتی اقدام سے نمٹنے کے لیے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کررہے ہیں۔

سیاسی مبصرین حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے لال مسجد کی طرح سوات کی صورتحال کو اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لیا جب تک علاقے میں’ طالبانائزیشن‘ کو اچھی طرح پنپنے کا موقع نہیں مل سکا اور اب اگر حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوجی طاقت کواستعمال کرنے کی کوشش کی تو اس کے انتہائی بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ
07 September, 2007 | پاکستان
سوات سیاحوں کو ترستا ہے
12 September, 2007 | پاکستان
سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک
22 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد