سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی نصف شب کو درجنوں مسلح افراد نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا جسکے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو اہلکاروں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے ایک مقامی عالم دین کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ سوات کے ضلعی رابطہ افسر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو بیس سے زیادہ مسلح افراد نے تو تا نو بانڈہ میں واقع ایک پولیس چوکی پر دستی بموں اور خودکار ہھتیاروں سے حملہ کیا جس میں سپاہی بہادر خان ہلاک جبکہ حملہ آور دو اہلکاروں گل محمد اور امجد کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں ایک سخت گیر مقامی عالم اور غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے والے مولانا فضل اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل اللہ کے خلاف قتل، اقدام قتل، اغواء، سازش، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں جب مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے حکومت کو جمعہ کی دوپہر دو بجے تک ڈیڈ لائن دی تھی۔انکے بقول ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد بھی انکے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا گیا لہذا مولانا فضل اللہ نے امن معاہدے کو توڑنے کا اعلان کردیا۔ سوات کےڈی سی اور سید محمد جاوید نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس نےگلِ باغ بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرلیا جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سابق رہنما مولانا فضل اللہ گزشتہ دو سال سے غیرقانونی ایف ایم چینل چلا رہے ہیں۔ایف ایم پر اسلامی امور کے بارے میں تقاریر سے انہیں سوات میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس سال مئی میں حکومت اور انکے درمیان معاہدہ ہوا جس میں یہ طے پایا تھا کہ مولانا فضل اللہ اپنے غیرقانونی ایف ایم چینل پر پولیو کے خلاف مہم، لڑکیوں کے سکول جانے کی مخالفت اور جہاد کی افادیت پر تقاریر نہیں کرسکیں گے جبکہ اسکےجواب میں حکومت انکے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے سلسلے میں قائم دس مقدمات کو ختم کرنے کا قانونی راستہ تلاش کرےگی۔ تاہم انہیں ایف ایم اسٹیشن چلانے کی مکمل اجازت ہوگی۔ جمعہ کو ہی سوات میں قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما محمد افضل خان ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے تھے جبکہ انکے دو ساتھی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ ڈیڑہ سال سے امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ تاہم لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بعد وہاں پر سکیورٹی فورسز پر خودکش حملوں، بم دھماکوں، سی ڈی سینٹرز کو حملوں کا نشانہ بنانے، این جی اوز، لڑکیوں کے اسکول جانے کے خلاف، سرکاری حکام، کیبل آپریٹرز اور خواتین بازار کے دکانداروں کو مبینہ دھمکی آمیز خطوط ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ |
اسی بارے میں سوات میں مظاہرہ، سپاہی ہلاک04 July, 2007 | پاکستان سوات میں ریموٹ کنٹرول دھماکہ24 August, 2007 | پاکستان باجوڑ، سوات حملے سرکاری افسر زخمی05 September, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان بنوں و سوات حملے: بارہ ہلاک 04 July, 2007 | پاکستان سوات: دھماکے میں دو افراد ہلاک03 August, 2007 | پاکستان سوات میں پولیس اہلکار قتل11 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||