BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنوں و سوات حملے: بارہ ہلاک

فائل فوٹو
اس سے قبل بھی قبائلی علاقوں میں فوجی قافلوں پرحملے کیے جاتے رہے ہیں
فوجی اور پولیس حکام کے مطابق بنوں اور سوات کے حملوں میں چھ فوجیوں اور دو بچیوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاک فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں جب کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سینئر سپرنٹنڈ نٹ پولیس کوایک مبینہ بم حملے میں زخمی کردیا گیا ہے جب کہ دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح دس بجکر پچیس منٹ پر پیش آیا۔

ان کے مطابق ایک فوجی قافلہ بنوں سے میران شاہ جارہا تھا کہ نیم قبائلی
علاقے گربز کے مقام پر حملے کا نشانہ بن گیا۔ جس میں چھ فوجی ہلاک جب کہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق زخمیوں میں پانچ عام شہری بھی شامل ہیں۔ دو فوجیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی فوجی قافلے کی آخری گاڑی سے ٹکرا دی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں دو عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

بنوں میں فوجی قافلے پر حملہ
 ضلع بنوں میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں

اس کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس خالد مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ایس ایس پی مظہر الحق کاکا خیل بدھ کی شام ایک اہم اجلاس میں شرکت کرنے جارہے تھے کہ مینگور میں پولیس لائن کے قریب انکی گاڑی کو بظاہر ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا جس میں وہ اور ان کے ڈرائیور معمولی زخمی جب کہ دو بچوں سمیت چار راہ گیر موقع پر ہلاک ہوگئے۔

مینگورہ سول ہسپتال کے ایک اہلکار سید نور نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے نتیجے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنکی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ڈی آئی جی خالد مسعود کا کہنا تھا کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے اور اس واقعہ سے اس بات کا عندیہ بھی ملتا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی مبینہ دہشت گرد موجود ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ رات بھی بعض افراد نے تحصیل مٹہ کے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے۔

سکیورٹی اہلکار گولی کا نشانہ بن گیا
 چار باغ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک سکیورٹی اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے
سید محمد جاوید

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حملے میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کا کوئی ہاتھ ہو سکتا ہے تو خالد مسعود کا کہنا تھا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم مولانا فضل اللہ لال مسجد کی صورتحال پر برہم ہیں اور انہوں نے اس قسم کی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی تھی اور ان کے مسلح ساتھی گزشتہ دو دن سے سڑکوں پر نکل آئے ہیں‘۔

جب اس سلسلے میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حملے سے لاتعلقی ظاہر کردی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے حملہ کرنا ہو گا تو وہ ڈنکے کی چوٹ پر کریں گے اور انہوں نے بدھ کو سینکڑوں مسلح لوگوں کو سڑکوں پر نکال کر یہ بات ثابت کر دی ہے۔

دوسری طرف مینگورہ کے ضلعی رابطہ افسر سید محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی رات چار باغ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک سکیورٹی اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ اس علاقے میں بدھ کو کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح اہلکار سارا دن گشت کرتے رہے۔

اسی بارے میں
بنوں: چوکی پر راکٹ حملہ
01 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد