عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | مقامی طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے |
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں مقامی طالبان نے پانچ روز قبل اغواء کیے گئے ایک سرکاری افسر کو رہا کر دیاہے۔ بنوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد خان کے بیٹے فرحت اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انکے والد کو پیر کی سہ پہر سواتین بجے بنوں میں رہا کر دیا گیا۔ انکے والد نے بتایا کہ مقامی طالبان نے انہیں این جی او کا اہلکار سمجھ کر اغواء کر لیا تھا۔ فرحت اللہ کے بقول انکے والد نے بتایا کہ انکا مکمل طور پر خیال رکھا جارہا تھا اور انہیں کھانے پینے اور دیگر ضروری اشیا: فراہم کی جارہی تھیں۔ انکے مطابق محمد خان نے بتایا کہ انہیں ایک گھر میں رکھا گیا تھا اور وہ پانچ وقت کی نماز یں باجماعت ادا کرتے اور قران مجید کی باقاعدہ تلاوت کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رہائی کے وقت طالبان نے انہیں نصیحت کی کہ واپس جاکر داڑھی رکھ لیں۔ واضح رہے کہ سرکاری اہلکار محمد خان کو پانچ روز قبل بنوں سے سولہ کلومیٹر دور غوری وال کے مقام پر چھ مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔ صوبہ سرحد کے بعض اضلاع میں علماء این جی او کے خلاف تقاریر کرتے ہیں اور ماضی میں این جی او سے تعلق رکھنے کی شبہے میں کئی افراد کو اغواء بھی کیا گیا ہے۔ بنوں قبائلی علاقے وزیرستان سے ملحق ہے اور یہاں پر گزشتہ کچھ عرصے سے مقامی طالبان کی سرگر میوں میں اضافہ ہوا ہے۔ |