BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 18:24 GMT 23:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: ہلاک شدگان کے جنازے

کوہاٹ کینٹ
کینٹ کے علاقے کو چاروں طرف سے سیل کیا گیا تھا جبکہ گاڑیوں کی آمد ورفت بھی بند تھی۔
صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کوہاٹ اور ہنگو میں گزشتہ روز مبینہ خودکش حملوں کا نشانہ بننے والے فوجی جوانوں اور دیگر عام شہریوں کی نماز جنازہ جمعہ کی صبح ہنگو اور کوہاٹ میں ادا کی گئیں۔

دوسری طرف ان حملوں کے بعد کوہاٹ اور ہنگو میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔

کوہاٹ میں جمعرات کی شام فوجی چھاؤنی میں مبینہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے پندرہ فوجی جوانوں کی نماز جنازہ جمعہ کی صبح پٹھان سنٹر میں ادا کی گئیں جس میں اعلٰی فوجی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ میں فوجی اہلکاروں کے علاوہ کسی سرکاری افسر نے شرکت نہیں کی۔

اس موقع پر کینٹ کے علاقے کو چاروں طرف سے سیل کیا گیا تھا جبکہ گاڑیوں کی آمد ورفت بھی بند تھی۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر بھی چھاؤنی کے حدود میں داخل ہونے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

ادھر کل کے واقعہ کے بعد فوجی چھاؤنی کے علاقے میں فوجی حکام نے کئی مورچے بنا لیے ہیں جبکہ ہر چوک میں بکتر بندگاڑیوں کے علاوہ فوجی جوان بڑی تعداد میں گشت کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔

گزشتہ شام کے واقعہ کے بعد آج سارا دن کوہاٹ شہر اور بازاروں میں رش معمول سے کم رہا جبکہ نماز جمعہ کے دوران بھی مساجد کے سامنے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی۔

خوف و ہراس
 دھماکے کے بعد سے فوجی چھاؤنی میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور علاقے میں باہر سے آنے والوں کی تعداد بھی کمی ہوئی ہے۔
یامین شامی، کینٹ رہائشی

کینٹ کے ایک رہائشی یامین شامی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے بعد سے فوجی چھاؤنی میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور علاقے میں باہر سے آنے والوں کی تعداد بھی کمی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ نماز جمعہ سے پہلے آج میں سارا دن یہی سوچتا رہا کہ جمعہ نماز کہاں پڑھی جائے کیونکہ کل کے واقعہ کے بعد اب مسجدوں میں بھی خوف محسوس ہونے لگا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف کے استعفی سے یہ دھماکے بند ہوجائیں گے تو پھر تو انہیں فوری طور پر صدارت اور آرمی چیف، دونوں عہدوں سے استعفی دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ شام کوہاٹ کینٹ کی ایک مسجد میں مبینہ خودکش حملے میں 19 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پندرہ فوجی جوانوں کے علاوہ چار عام شہری تھے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

ادھر ضلع ہنگو میں بھی گزشتہ روز پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے میبنہ خودکش حملے میں ہلاک تین شہریوں کی تدفین کردی گئیں۔

ہنگو کے ضلعی رابطہ افسر فخرعالم محمد زئی کے مطابق کل کے واقعہ کے بعد شہر میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور تمام اہم علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ہنگو شہر آج سارا دن افواہوں کی زد میں رہا۔ جمعہ کی صبح سے لیکر شام تک شہر کے مختلف علاقوں میں بم رکھنے اور دھماکوں کی افواہیں گردش کرتی رہی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز کو کار بم خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں حملہ آور کے علاوہ پولیس اہلکار اور پانچ عام شہری شامل تھے۔

شیر پاؤ حملہجب دھماکہ ہوا
شیر پاؤ پارٹی کارکنوں کے درمیان تھے۔ چشم دید
مریم خاتون’بیٹا ایسا نہ تھا‘
’خود کش بمبار‘ کی ماں کا مطالبہ بیٹے کی لاش
بم حملہانیس خود کش حملے
چھ ماہ، انیس حملے، ایک سو چھیاسی ہلاکتیں
بم حملہکم از کم 79 ہلاک
پاکستان: دو ہفتوں کے دوران آٹھ خود کش حملے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد