بس اب بیٹے کی لاش چاہیے !! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ جنوری کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے مبینہ خود کش بمبار کی والدہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیٹے کی لاش ان کے حوالے کی جائے۔ اطلاعات کے مطابق ’خود کش بمبار‘ کے والد اور بھائیوں کو حکومت نے حراست میں لے رکھا ہے۔ پنجاب کے جنوبی شہر ڈیرہ غازی خان کی رہائشی مریم خاتون نے واقعہ کے چار روز بعد اخبارات میں شائع ہونے والی ’خودکش بمبار‘ کی تصویر دیکھ حکومت سے رابطہ کیا کہ یہ ان کا بیٹا قاری محمد یونس ہے۔ جمعہ کو ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یونس تین ماہ سے غائب تھا۔ ’وہ ایک نیک اور شریف بچہ تھا، پتہ نہیں کس دشمن نے اسلام (کے نام) پر اسے ورغلایا ہے‘۔ مریم خاتون نے بتایا کہ وہ اس دن سے مزید مشکلات میں گِھر گئی ہیں جب سے انہوں نے اخبار میں چھپی تصویر دیکھ کر اپنے بیٹے کو پہچانا ہے۔ ان کے مطابق دس جنوری کو پولیس ان کے شوہر حافظ عبدالقادر اور بیٹوں ایوب اور یوسف کو اٹھا کر لے گئی ہے اور اب تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونس کو مرے ہوئے دس روز ہو گئے ہیں، لیکن اسے ابھی تک دفنایا نہیں گیا۔ ’مجھے یقین نہیں آتا کہ میرا یونس دہشت گرد تھا، اسے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر مارا گیا ہے ۔۔۔۔ حکومت نے بہت ظلم کیا ہے‘۔ مریم خاتون نے بتایا کہ حکومتی اہلکاروں نے ان کے غریبانہ سے گھر کی اندر اور باہر سے تصویریں بھی بنائی ہیں اور یونس کی مختلف مدارس سے حاصل کردہ اسناد بھی ساتھ لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونس کے غائب ہونے پر وہ بہت پریشان رہتی تھیں، لیکن ان کے شوہر تسلی دیتے تھے کہ فکر نہ کرو کہیں نہ کہیں سے آ جائے گا۔’میں اب گھر میں اکیلی ہوں، کھانا پینا چھوٹ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے اب بس بیٹے کی لاش چاہیے ہے‘۔ اسلام آباد میں ہلاک ہونے والے مبینہ خود کش بمبار قاری یونس انیس سو اکیاسی میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق بلوچ قبیلے لغاری کی پھیرووانی شاخ سے تھا۔
مختلف ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق قاری یونس کی شادی اپنے ماموں مولانا حیات اللہ لغاری کی بیٹی سے ہوئی تھی، لیکن دونوں میاں بیوی میں ناچاقی رہتی تھی اور جلد ہی طلاق ہو گئی۔ مولانا حیات ایک دینی مدرسے کے مہتمم ہیں۔ قاری یونس کی دو سالہ بیٹی سائرہ اب اپنی دادی مریم خاتون کے پاس ہے۔ یونس نے عمرہ کر رکھا تھا اور کسی مذہبی تنظیم کے ساتھ مل کر کشمیر، ہزارہ ڈویژن اور شمالی علاقہ جات میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔ ان کا روزگار تعلیم قرآن سے وابستہ تھا۔ | اسی بارے میں راولپنڈی میں دھماکہ، ایک ہلاک16 February, 2007 | پاکستان کراچی سے مشتبہ خودکش بمبارگرفتار16 February, 2007 | پاکستان پشاور: دھماکے، سکیورٹی اور خوف11 February, 2007 | پاکستان لکی مروت میں دھماکہ، ایک ہلاک03 February, 2007 | پاکستان ڈیرہ آئی خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان ’طالبان، القاعدہ ملوث ہوسکتے ہیں‘27 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||