BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 22:25 GMT 03:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش حملہ نہیں تھا: وزیر اطلاعات

حملہ آور کی لاش نظر آ رہی ہے
حملہ آور کی لاش سڑک پر نظر آ رہی ہے
پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد ائر پورٹ پر ہونے والا حملہ خود کش نہیں تھا بلکہ حملہ آور بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں اس کے ہاتھ سے دستی بم گِر کر پھٹ گیا‘۔

منگل کی رات نو بجکر دس منٹ پر دارالحکومت میں ائر پورٹ پر فائرنگ کے تبادلے اور ہینڈ گرنیڈ کے دھماکے سے ایک مبینہ شدت پسند ہلاک اور تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار شاہد ملک نے جو تقریباً حملے کے وقت ہی ہوائی جہاز پر لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے بتایا کہ حملہ بہت حساس علاقے میں ہوا اور اسی شاہرا پر واقع ہے جہاں پر دو بار جنرل پرویز مشرف پر خودکش حملہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی کا سخت انتظام رہتا ہے اور یہی وجہ ہے حملہ آور کو عمارت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ یہ خود کش حملہ نہیں تھا اور اس سے پہلے ہونے والے واقعات سے مختلف تھا۔ انہوں نے کہا ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے پیچھے کون سی تنظیم یا گروہ ہے۔

ابتدائی طور پر پولیس حکام نے اس واقعہ کو خود کش حملہ قرار دیا تھا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اس خدشہ کے پیش نظر لاش کے قریب نہیں جانے دیا گیا کہ اس کے جسم کے ساتھ بارود کے بندھے ہونے کا خدشہ تھا، تاہم بم ڈسپوزل کے عملے کی تسلی کے بعد ڈی آئی جی مروت شاہ نے رات گئے میڈیا کولاش دیکھنے کی اجازت دی، لاش کا نچلا حصہ اڑ گیا تھا البتہ اس کا بالائی حصہ اور چہرہ سلامت تھا۔

وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس کارروائی کو دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ بظاہر حملہ آور کا مقصد عام شہریوں کو ہلاک کرنا تھا جو ان کے بقول سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے جان پر کھیل کر ناکام بنا دیا۔

ڈی آئی جی راولپنڈی مروت شاہ نے بتایا کہ زخمیوں میں ایلیٹ فورس کا ایک اے ایس آئی، ائرپورٹ سیکیورٹی فورس کا سب انسپکٹر اور ایک گارڈ شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آور ایک ٹیکسی میں آیا تھا وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پولیس نے ٹیکسی کو قبضے میں لے لیا ہے اور ڈرائیور بھی شامل تفتیش ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ ڈرائیور سے حملہ آور کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

پولیس نے کئی گھنٹے تک ائر پورٹ کو سیل کیے رکھا اور جائے وقوعہ اور کارپارکنگ کی مکمل تلاشی لی گئی۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ مزید کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں مل سکا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کچھ اہم شواہد ملے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملزم کے پاس صرف دو دستی بم تھے جن میں سے ایک اس نے فائرنگ کے فوری بعد سیکیورٹی اہلکارو ں پر پھینکا جو پھٹ نہیں سکا اور دوسرا حملہ آور کے ہاتھ میں تھا جو اس وقت گرا جب وہ وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا اور سیکیورٹی اہلکار فائرنگ کر رہے تھے۔انہوں نےکہا کہ یہ دستی بم حملہ آور کے پیروں کے نزدیک گر گیا تھا جس سے اس کی ہلاکت ہوئی۔

اسلام آباد پولیسخود کش حملہ
اسلام آباد میں خود کش حملہ: تصویری جھلکیاں
پولیس کے ناکے
ایوب پارک دھماکہ، عینی شاہدین کیا کہتے ہیں
پشاور دھماکہ (فائل فوٹو)انسانی جان کی ارزانی
پشاور خود کش حملے پر ہارون رشید کا تجزیہ
اسی کی دہائی کی یاد
’دھماکہ افغانستان یا وزیرستان سے جُڑاہوا ہے‘
لاہور دھماکے
لاہور میں جمعرات کو دھماکوں کی تصاویر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد