تین خود کش حملوں میں 52 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مختلف شہروں کوہاٹ، حب اور ہنگو میں جمعرات کے روز تین مختلف بم حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور ستر سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان میں سے دو کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ خود کش حملے تھے جبکہ تیسرا سڑک کے کنارے نصب کیے گئے بم سے کیا گیا ہے۔ کوہاٹ کی مسجد میں دھماکہ صوبہ سرحد کے شہر کوہاٹ میں جمعرات کی رات فوجی چھاؤنی کی مسجد میں ایک مبینہ خودکش حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں سے دو افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق کوہاٹ کے ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ رات کے ساڑھے نو بجے فوجی چھاؤنی میں واقعہ ایک مسجد میں اس وقت پیش آیا جب لوگ عشاء کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔ ان کے مطابق یہ بظاہر ایک خودکش حملہ معلوم ہو رہا ہے کیونکہ ایک سر ملا ہے جس کی مدد سے شناختی خاکہ تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے۔انکے بقول سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کی تحقیقات کے لیے پولیس اور فوجیوں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے درمیان ہونے والا یہ دسواں خود کش حملہ ہے جس میں پہلی مرتبہ فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حب میں حملہ بلوچستان کے شہر حب میں بھی جمعرات ایک بم حملہ ہوا جس میں کم از کم آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت 30 افراد ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق واقعے کے بعد حکومت نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر بڑے شہروں میں سیکورٹی سخت کردی ہے اور پولیس اور فرنٹیرکور نے صوبے کی مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹ قائم کر کےمشکوک لوگوں کی تلاشی شروع کر دی ہے۔ بلوچستان پولیس کے سربراہ طارق کھوسہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کا قافلہ پانچ چینی شہریوں کو لے کر کراچی کی طرف جا رہا تھا کہ حب بازار سے گزرتے ہوئے غالباً سڑک پر نصب بم کا دھماکہ ہوا۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیرکور بلوچستان میجر جنرل سیلم نواز خان کے مطابق چائنیز انجینئرز پر حملے کی دھمکی حکومت کو پہلے ملی تھی۔ انہوں نے کہا صوبے میں امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیے اس وقت بھی فرنٹیرکور کی چالیس ہزاراور پولیس کی پینتیس ہزارنفری تعینات ہے جبکہ خفیہ اداروں کے ہزاروں اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔ حب میں موجود ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس غلام قادر تیبو نے کہا کہ واقعہ میں ملوث مشکوک افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپےمارے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے مرنےوالوں کے لیے ایک لاکھ اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے دینےکا اعلان کیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کے لیے تین لاکھ تین لاکھ اورانکے بچوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے پاک افغان سرحد پر بھی حفاظتی انتظامات مذید سخت کر دیے ہیں۔ اس کےعلاوہ چمن میں افغان سرحد پرافغانستان سے آنے والے لوگوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف نے اپنے بیانات میں حب میں بم دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی اس کارروائی کی پرزور مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے بم دھماکے کو بزدلانہ اور بہیمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مزدوروں، محنت کشوں اور عام افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی قابل نفرت فعل ہے۔ ہنگو میں خود کش دھماکہ اس سے قبل جمعرات کی صبح صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز میں ایک مبینہ کار بم خودکش حملے میں سات افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی بتائی جا رہی ہے۔
ہنگو کے ضلعی رابطہ افسر فخرعالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب سوزوکی آلٹو گاڑی میں سوار ایک خودکش حملہ آور نے پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز میں داخل ہونے کوشش کی۔ مرکز کے میدان میں پولیس اہلکار تربیت میں مصروف تھے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور کو جب تربیتی مرکز کے گیٹ پر روکا گیا تو اس دوران اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے جبکہ قریب کھڑی دو اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ضلعی رابط افسر کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے جو پولیس نے اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔ دھماکے کے فوری بعد ہنگو کوہاٹ روڈ ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دی گئی۔ |
اسی بارے میں سفارت کاروں کو احتیاط کی ہدایت19 July, 2007 | پاکستان ہنگو میں خود کش حملہ، پانچ ہلاک19 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کا رنگ تبدیل کردیا جائےگا19 July, 2007 | پاکستان ’دھماکہ خود کش حملہ ہوسکتا ہے‘19 July, 2007 | پاکستان لوگ مزدوری کر رہےتھے:عینی شاہد19 July, 2007 | پاکستان ہنگو اور حب میں دھماکے، 33 ہلاک19 July, 2007 | پاکستان اسلام آباد: دھماکے کے بعد کا منظر18 July, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، سترہ ہلاک18 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||