BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 19:29 GMT 00:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہاٹ کی پہاڑیاں اور مزار کی چہل

مزار
اولیاء کرام کے مقبرے کوہاٹ شہر کی پہچان بتائے جاتے ہیں۔
’جنگل میں منگل‘ کا محاورہ تو سبھی نے سنا ہوگا لیکن اس کا عملی مظاہرہ ہم نے کوہاٹ کے سنسان اور پرپیج پہاڑوں کو عبورکرنے کے بعد گھمکول شریف المعروف ’ زندہ پیر‘ کے مزار پر جاکر دیکھا۔

پہاڑوں کی سرزمین کہلانے والے صوبہ سرحد کے اس جنوبی شہر میں داخل ہوتے ہی آپ کو سڑک کے دونوں جانب پہاڑ ہی پہاڑ نظر آئیں گے۔

صوبائی دارلحکومت پشاور سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کوہاٹ شہر کا شمار ملک کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کے بقول کوہاٹ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی’ پہاڑوں کی منڈی‘ کے ہیں۔ تاہم بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ کوہاٹ‘ ایک ہندو راجہ کا نام تھا جس نے اس شہر کو پرانے وقتوں میں آباد کیا تھا۔

سرزمین کوہاٹ کے ویسے تو کئی رنگ ہیں لیکن اولیاء کرام کے مقبرے بھی اس شہر کی پہچان بتائے جاتے ہیں۔

 مزار پر روزانہ سینکڑوں کے تعداد میں لوگ ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ یہاں مریدوں کی ایک بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے جبکہ مزار اور مسجد کی دیکھ بھال، لنگراور کھانے پینے کے انتظام کےلیے ایک خاص عملہ ہے۔

پشاور سے جاتے ہوئے اس خوبصورت شہر کے ہنگو بائی پاس روڈ پر دائیں طرف ایک افغان مہاجر کیمپ آتا ہے۔ اس کیمپ کے درمیان میں بنے ہوئے راستے پر تھوڑا آگے جانے سے پہاڑوں کا چھوٹا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے ختم ہوتے ہی ایک وسیع وعریض میدانی علاقہ آتا ہے۔ اسی میدان پر سنگ مر مر کی دو چمکیلی عمارتیں ہیں۔ یہ صوفی بزرگ حضرت شاہ المعروف گھمکول شریف ’زندہ پیر‘ کا مزار ہے۔ اس کے ساتھ میں ایک شاندار مسجد بھی ہے۔

یہ علاقہ گھمکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق حضرت شاہ نے پہاڑوں میں’چلہ‘ کاٹا پھر وہیں پر آباد ہوگئے اور بعد میں گھمکول شریف زندہ پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔

مزار کے اردگرد ایک وسیع پہاڑی علاقہ ہے لیکن ان پہاڑوں میں خاموشی کے بجائے مزار کے سبب زبردست چہل پہل ہے۔ مزار کے احاطے میں ہرطرف سنگ مرمر کے فرش بنے ہوئے ہیں۔

مزار کی تعمیر پر کافی رقم خرچ کی گئی ہے اور شیشے کا بہت استعمال ہوا ہے

مزار پر روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ یہاں مریدوں کی ایک بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے جبکہ مزار اور مسجد کی دیکھ بھال، لنگراور کھانے پینے کے انتظام کےلیے ایک خاص عملہ ہے۔ پیر صاحب کے مریدوں میں اکثریت اردو یا پنجابی بولنے والوں کی ہیں۔ پیر صاحب کے ایک مرید کے بقول مزار پر چوبیس گھنٹے لنگر جاری رہتا ہے۔

حضرت شاہ کا عرس ہر سال مارچ کے مہینے میں منایا جاتا ہے جس میں لاکھوں لوگ دنیا بھر سے شرکت کرتے ہیں۔ ایک مقامی صحافی عنایت اللہ شاہ نے بتایا کہ عرس کے موقع پر پورے کوہاٹ شہر میں جشن کا سماں ہوتا ہے جبکہ گھمکول کے علاقے کو خصوصی طورپر سجایا جاتا ہے۔ تین دن تک یہ جشن جاری رہتا ہے جس کےلیے علاقے میں خصوصی بازار بھی لگائے جاتے ہیں۔

زندہ پیر اب زندہ تو نہیں رہے لیکن مریدوں کے درمیان ’زندہ پیر‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ زندہ پیر کی کرامات اپنی جگہ لیکن پہاڑوں کے درمیان اعلی کوالٹی کے سنگ مر مر سے بنے ہوئے مغلیہ طرز کا مزار اور مسجد یقینی طورپر جنگل میں منگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد