دانت کے درد کیلئے ’دانتوں والے بابا کا مزار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دانتوں کی تکلیف میں آرام اور وہ بھی ڈاکٹر کو دکھائے بغیر! ہے نا کچھ عجیب بات۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن پشاور شہر کے اندر ایک ایسا مزار بھی واقع ہے جہاں مقامی لوگوں کے عقیدے کے مطابق ایک کیل ٹھونکنے سے آپ کے دانت کی تکلیف دور ہوسکتی ہے۔ یہ مزار ’دانتوں والے بابا‘ کے نام سے مشہور سید امیر غازی بابا کا ہے۔ پشاور کے نواح میں ارباب لنڈی گاؤں میں واقع اس مزار پر روزانہ درجنوں ایسے افراد آتے ہیں جو دانتوں کی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مزار پر آنے والے لوگوں کا یہ پکا عقیدہ ہے کہ جس کسی کے دانت میں تکلیف ہو، وہ یہاں آکر مزار کے اندر موجود درخت کے مضبوط خشک تنوں میں کیل ٹھونکے تو گھر پہنچنے سے پہلے پہلے اس کے دانت کی تکلیف دور ہو جائےگی۔ ایک کنال کے رقبے پر پھیلے ہوئے اس مزار کے احاطے میں درختوں کے بڑے بڑے مضبوط خشک تنے پڑے ہوئے ہیں جس پر سینکڑوں کے حساب سے کیلیں ٹھونکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مزار کے گدی نشین ملنگ ایاز بابا کا کہنا ہے امیر غازی بابا کی یہ وصیت تھی کہ جس کسی کے دانت میں تکلیف ہوں وہ یہاں آکر پہلے کلمہ پڑھے پھر باہر سے کیل منہ پر رگڑے اس کے بعد اسے درخت میں ٹھونکے اور دعا پڑھے۔ امید ہے کہ گھر پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی دانت کی تکلیف دور ہوجائیگی۔
ایاز بابا نے، جو کسی زمانے میں گورنر ہاؤس پشاور میں مالی بھی رہ چکے ہیں، بتایا کہ وہ گزشتہ 25 سال سے مزار پر صفائی کا کم کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کسی کو صحیح طرح معلوم نہیں کہ غازی بابا کہاں سے آئے تھے لیکن مقامی آْبادی میں اکثریت کی رائے یہی ہے کہ دانتوں والے بابا تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل افغاستان کے شہر کابل سے آئے تھے۔ مزار پر آئے ہوئے ایک نوجوان ظاہر اللہ سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کرنے آیا ہے تو اس کہنا تھا کہ اسے دانت میں تکلیف ہے اور وہ کیل ٹھونکنے آیا ہے کیونکہ پہلے بھی اس طرح ایک دفعہ اس کی دانت کی تکلیف دور ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا پکا عقیدہ ہے کہ جو کوئی دانتوں والے کے دربار پر آتا ہے اس کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ مزار پر آنے والوں میں اکثریت سادہ لوح خواتین کی ہیں جن کے ساتھ بچے بچیاں بھی ہوتے ہیں۔ ایک ادھیڑ عمر کی عورت جانو آدے سے پوچھا کہ دانت کی تکلیف دور کرنے کے لیئے وہ ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ جب بغیر فیس کے یہاں دانت کی تکلیف دور ہوسکتی ہے تو پیسے کیوں خرچ کیئے جائیں۔
اس مزار کے بارے میں مقامی لوگ مختلف قسم کی روایات بیان کرتے ہیں۔ بابا کے ایک مرید فیض محمد کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے گاؤں کے ایک پرہیزگار اور نیک شخص کو دانت کی تکلیف ہوئی جو کافی علاج کے بعد بھی ٹھیک نہ ہوسکی۔ باآلاخر بابا اسے خواب میں آئے اور اسے نصیحت کی وہ اس کے مزار پر ایک گائے ذبح کرکے اس کی کسی بھی ہڈی میں کیل ٹھونکے تو اس کے دانت کی تکلیف ختم ہوجائے گی۔ فیض محمد نے مزید بتایا کہ اس نیک شخص نے ایسا ہی کیا اور اس طرح اس کے دانت کی تکلیف دور ہوگئی جس کے بعد سے لوگ یہی کرتے آئے ہیں اور اس طرح ان کے دانت میں تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ تاہم امیر غازی بابا کے مزار کے بارے میں مشہور کی جانے والی اس کرامت کو بعض علماء کرام شرک قرار دیتے ہیں۔ یونیورسٹی ٹاؤن میں واقع ایک مدرسے کے مدرس حافظ رحمان اللہ کہتے ہیں کہ جو لوگ ان چیزوں پر یقین رکھتے ہیں وہ شرک کرتے ہیں۔ ’یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک کیل ٹھوکنے سے دانت کی تکلیف دور ہوجائے، یہ سب توہمات ہیں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور ان مزاروں پر وہ لوگ جاتے ہیں جو ان پڑھ ہیں‘۔ | اسی بارے میں حکیم عنایت شاہ کا خزانہ 16 June, 2004 | پاکستان ’مزاروں پر بھی فوج کا قبضہ ہے‘02 June, 2004 | پاکستان سائیں بابا کا مزار04 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||