BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکیم عنایت شاہ کا خزانہ

شاہ عنایت
سید شاہ عنایت کا مزار لاہور میں مسجد وزیر خان کے برابر واقع ہے
لاہور میں وزیر خان مسجد کے قریب بازار چماراں میں رنجیت سنگھ کے دربار سےمنسلک حکیم اور شاعر سید عنایت شاہ کے مقبرہ پر ایک تجارتی پلازہ کی تعمیر کے دوران میں سینکڑوں قدیم اور نادر کتابیں دریافت ہوئی ہیں۔

کوتوالی سے چونا منڈی جاتے ہوئے اندرون لاہور کے اس تاریخی علاقہ کی گلیاں اور کوچے کپڑے کے ایک بڑے تھوک کے بازار میں تبدیل ہوچکے ہیں جنھیں اعظم مارکیٹ کہا جاتا ہے۔

یہاں واقع چماراں بازار کو اب کشمیر بلاک کا نام دیا گیا ہے اس میں سید عنایت شاہ کا مقبرہ واقع ہے جس کے قریب واقع مکان کی جگہ مارکیٹ بن رہی ہے اور یہ مقبرہ اور دوسری قبریں بھی عمارت کے اندر لے لی گئی ہیں۔

عنایت شاہ کے مقبرہ کا ذکر کنہیا لال کی تاریخ لاہور میں موجود ہے اور ان کے دو بیٹے ، مراتب شاہ اور نوازش شاہ لاہور کے میونسپل کمشنر رہے۔

دانشور شفقت تنویر مرزا کا کہنا ہے کہ پونے دو سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے سید عنایت شاہ سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار سے منسلک تھے۔ وہ حکیم اور شاعر تھے جن کی شاعری کو ان کے شاگرد محمد باقر نے جمع کیا۔

اہل محلہ کا کہنا ہے کہ پلازہ کی تعمیر کے وقت یہاں سے سینکڑوں کی تعداد میں قدیم کتابیں دریافت ہوئی ہیں جو عبدالمجید پہلوان کے پاس ہیں۔ ان کتابوں کی سات بوریاں بتائی جاتی ہیں۔

شاہ
شاہ عنایت کا مزار اور ملحقہ قبریں پلازہ میں لے لی گئی ہیں

ان کتابوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سید عنایت شاہ اور انکے ورثا کی ملکیت تھیں۔ اہل محلہ کے مطابق عنایت شاہ کےآخری وارث واجد شاہ ایک وکیل تھے جو یہ جگہ بیچ کر چلے گئے۔

عبدالمجید پہلوان نے دو مقامی صحافیوں ذوالقرنین اور آفتاب گیلانی کو کچھ کتابیں دکھائیں۔ ان صحافیوں نے جو کتابیں دیکھیں ان میں سے کچھ کتابیں اٹھارہ سو چوہتر کی چھپی ہوئی تھیں اور کچھ انیس سو چار اور انیس سو بیس وغیرہ کی شائع شدہ تھیں۔

دانشور شفقت تنویر مرزا کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک کتاب انھوں نے بھی دیکھی جو انمیس سو تین کی چھپی ہوئی ہے اور ایک انگریزی کتاب ’ان ٹیون ود انفنٹی‘ کا اردو ترجمہ ہے۔

جو کتابیں زیادہ تر طب، تصوف اور تاریخ کے موضوعات سے متعلق ہیں۔ تاہم عبدالمجید پہلوان جن کے قبضہ میں ساری کتابیں ہیں انھیں دکھانے سے گریزاں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد