BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 June, 2004, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
، فوج مزاروں پر بھی قابض ہے ،
News image
پنجاب اسمبلی کی ایک رکن نے دعوی کیا ہے کہ صوبے کے شہروں میں بعض بزرگان دین کے مزار اور ان کی زمینوں کو فوج نے اپنی زیر نگرانی لیا ہوا ہے جس کی وجہ سے زائرین کو مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی صغیرہ اسلام نے آج صوبائی اسمبلی میں ایک ضمنی سوال پر بات کرتے ہوۓ کہا کہ فوج سمیت بعض دیگر افراد ایسی زمینوں پر قابض ہیں جن پر اولیا اللہ کے مزار ہیںـ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان زمینوں کو فوج سے لے کر محکمہ اقاف کے حوالے کیا جائے تاکہ زائرین درباروں پر جا کر اپنی عقیدت کااظہار آزادانہ طور پر کرسکیں۔

صغیرہ اسلام نے اپنے سوال میں پوچھا تھا کہ ملتان شہر میں اولیا اللہ کے مزاروں کے نام بتاۓ جائیں۔ اس کے ضمنی سوال پر انھوں نے نکتہ اٹھایا کہ ملتان شہر میں بابا غریب شاہ کا مزار فوج کی تحویل میں ہے۔

اس پر صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ سعیدالحسن شاہ نے کہا کہ وہ مزار چھاؤنی کے علاقہ میں ہے اس لیے فوج کے پاس ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ یہ مزار چھاؤنی کے علاقہ میں نہیں ہے۔

وزیر نےاعتراف کیا کے پیر شعلہ شہید کا دربار اوقاف نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا لیکن یہ ابھی تک فوج کے زیر انتظام ہے۔

انھوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ درباروں کی زمینیں ناجائز قابضین سے واگزار کرائی جائیں گی اور ان کے انتظام کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں ارکان اسمبلی کو بھی شامل کیا جاۓ گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد