سوات: بدھا کا مجسمہ تباہ کرنے کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کےضلع سوات میں تقریباً بائیس سوسالہ قدیم مہاتما بدھ کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے مجسمے کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ سوات کے ڈی آئی جی خالد مسعود نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مینگورہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر مشرق میں واقع منگلور کے علاقے جہاں آباد میں بعض نامعلوم افراد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب بدھا کے مجسمے کو دھماکے خیز مواد سے مسمار کرنے کی کوشش کی ہے جس سے مجسمے کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ایک عینی شاہد طارق خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہاڑ کی ڈھلوان پر بنائے گئےمہاتما بدھ کے مجسمے کو بظاہر بارود سے اڑانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم بلندی پر ہونے کی وجہ سے حملہ آور انہیں زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے ہیں۔ معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر پرویز شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ سن دو ہزار کے دوران افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں وادی بامیان میں بدھا کے مسمار کیے گئے مجسمے کے بعد سوات میں مبینہ طور پر نشانہ بننے والا مجسمہ ایشیا میں بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ سمجھا جاتا ہے جو تقریباً بائیس سو سال قدیم ہے۔انکے بقول اس مجسمے کی لمبائی تیرہ فٹ اور چوڑائی نو فٹ ہے۔انکے بقول وادی سوات گندھارا تہذیب کا ایک اہم مرکز ہے جہاں اس وقت بھی بدھا کے سینکڑوں چھوٹے بڑے مجسمے موجود ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے سن دوہزار کے دوران بین الاقوامی برادری کی تمام تر اپیلوں کے باوجود وادی بامیان میں موجود بدھا کے مجسمے کو مسمار کر دیا تھا۔تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان میں تاریخی آثار کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کے بعد ضلع سوات میں بھی گزشتہ کئی عرصے سے مبینہ طور پر’ طالبانائزیشن، میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں پر کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سابق رہنما اور غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے والے ایک ’سخت گیر‘ مذہبی عالم موجود ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں، جہاد کی حمایت کے حوالے سے مبینہ تقاریر کرتے ہیں اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو مغربی سازش قرار دیتے ہیں۔ سوات میں حالیہ دنوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور سی ڈی سینٹروں کو مبینہ طور پر دھماکے سے اڑانے کے واقعات میں اضافے کے علاوہ این جی اوز اور لڑکیوں کے سکولوں میں پردے کا اہتمام نہ کرنے کی صورت میں نشانہ بنائے جانے کے بارے میں مبینہ دھمکی آمیز خطوط ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ | اسی بارے میں اشوک کی چٹانیں اور عدم توجہی27 August, 2007 | پاکستان نواردات پاکستان کو واپس08 March, 2007 | پاکستان ’شاندار‘ بدھا کی دریافت05 May, 2007 | آس پاس ’ڈیورنڈ لائن کو سرحد کبھی نہ مانتے‘07 February, 2007 | پاکستان پشاور میوزیم کی سو سالہ تقریب04 January, 2007 | پاکستان لاکھوں بچوں کو ٹیکے لگائے گئے06 September, 2007 | پاکستان الظواہری کا نیا ویڈیو پیغام02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||