لاکھوں بچوں کو ٹیکے لگائے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی مہم کا تیسرا پندرہ روزہ مرحلہ جو20 اگست کو شروع ہوا تھا مکمل کرلیا گیا۔ اس مرحلے میں بلوچستان اور صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع میں ابتدائی اندازوں کے مطابق مجموعی طور پر کوئی 64 لاکھ بچوں کو ٹیکے لگائے گئے جب کہ 67 کا ہدف رکھا گیا تھا۔ یہ مہم عالمی ادارۂ صحت، عالمی ادارۂ اطفال اور پاکستان کے محکمئہ صحت کے تعاون سے چلائی گئی۔ واضح رہے کہ خسرہ دنیا بھر میں بچوں کی اموات کے دس بڑے اسباب میں سے ایک ہے اور پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سالانہ دس لاکھ افراد اس مرض میں مبتلاء ہوتے ہیں جبکہ روزآنہ اوسطاً 58 بچے اس کے نتیجے میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پہلے دو مرحلوں میں جو اس سال مارچ اور جولائی میں مکمل کئے گئے، ایک کروڑ بچوں کو ٹیکے لگائے گئے۔ ان میں صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے، مردان کا ضلع، سندھ میں دادو، پنجاب میں گجرات اور آزاد کشمیر میں میرپور اور بلوچستان کے بعض اضلاع شامل تھے۔ تیسرے مرحلے میں جو بدھ کو مکمل ہوا صوبہ سرحد کے بارہ اضلاع کے علاوہ بلوچستان کے کچھ علاقے شامل تھے۔ باقی دو مرحلوں میں جو اس سال نومبر اور آئندہ سال کی ابتداء میں شروع کئے جائیں گے،کوئی پانچ کروڑ سے زیادہ بچوں کو ٹیکے لگانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں سندھ اور پنجاب کے وہ اضلاع شامل ہیں جو پہلے تین مرحلوں میں شامل نہیں تھے۔ مہم کے ذمہ دار افراد نے بتایا کہ صوبہ سرحد میں بعض مقامات پر کچھ سکولوں کی جانب سے مناسب تعاون نہیں کیا گیا اور بعض مذہبی تنظیموں نے لوگوں کو اپنے بچوں کو ٹیکے لگوانے سے روکنے کی کوشش کی اس کے باوجود یہ مہم اب تک توقع سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔ | اسی بارے میں سرحد کی جیلوں کے نو عمر ’مہمان‘11 August, 2004 | پاکستان پاکستانی جیلوں میں قید بچے12 July, 2004 | پاکستان بے سہارا بچوں کی بہبود کا قانون08 June, 2004 | پاکستان محنت کش بچے 33لاکھ سے زائد 25 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||