اشوک کی چٹانیں اور عدم توجہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں مانسہرہ کے مقام پر واقع تاریخی چٹانوں پر کندہ عبارت مٹتی جارہی ہے اور اسکی حفاظت کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا تو پاکستان ایک قیمتی تاریخی ورثے سے محروم ہوجائے گا۔ انسانی تاریخ میں بہت سے حکمراں گزرے ہیں جنہوں نے بڑے کروفر سے حکومت کی ہے لیکن ان میں، بقول ایچ جی ویلز، ہندوستان کے حکمراں اشوک کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ وہ ایک جابر اور توسیع پسند راجہ کے طور پر اقتدار میں آیا لیکن کالِنگا کی لڑائی کی ہولناکیوں نے اسکی سوچ میں ایک انقلاب بپا کردیا اور اس نے آئندہ جنگ، ظلم اور تشدد سے توبہ کرلی اور اہِنسا (عدم تشدد) کا پجاری بن گیا۔
اشوک نے ایک اچھے انسان اور ایک اچھی حکومت کے لئے کوئی چودہ اصول مرتب کیے تھے جنہیں پتھر کے ستونوں اور بڑی بڑی چٹانوں پر کندہ کرا کر اپنی سلطنت کے مختلف علاقوں میں نصب کرادیا تھا۔ یہ اصول ہندوستان، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر کوئی تیس مقامات پر نصب ملے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں مانسہرہ اور مردان کے قریب یہ چٹانیں ملی ہیں۔ جہاں تک مردان کی چٹانوں کا تعلق ہے وہ تو ماہرین کے مطابق پڑھی جاسکتی ہیں لیکن شمالی ضلع مانسہرہ میں ان پر کندہ عبارت متعلقہ حکام کی عدم توجہی کی بناء پر بڑی حد تک مندمل ہوگئی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے پچیس تیس سال پہلے یہ بڑی حد تک واضح تھیں لیکن اب بڑی مشکل سے پڑھی جاتی ہیں۔ اگرچہ محکمۂ آثار قدیمہ نے ان چٹانوں پر سایبان ڈال دیے ہیں لیکن ان کی عبارت کو ابھارنے کی بھی کوئی سبیل کرنی چاہیئے تاکہ تاریخ اور آثار قدیمہ کے طلبہ بھی اپنی تحقیق اور تفریح کے لئے اسے استعمال کرسکیں۔ | اسی بارے میں نوادرات کی حفاظت کا منصوبہ12 March, 2005 | پاکستان نواردات پاکستان کو واپس08 March, 2007 | پاکستان بھاشا ڈیم کی تعمیر، آثار قدیمہ کی تباہی09 December, 2006 | پاکستان آثار قدیمہ اور بارشیں07 September, 2003 | پاکستان پشاور: ایک اور سینما ہال مسمار 28 February, 2007 | پاکستان ٹیکسلا اور خواتین یونیورسٹی کا دورہ31 October, 2006 | پاکستان ایک ووٹ انکور واٹ مندر کو بھی21 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||