بھاشا ڈیم کی تعمیر، آثار قدیمہ کی تباہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے ایک معروف ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ بھاشا دیامیر ڈیم کی تعمیر سے قبل اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیئے گئے تو ضلع دیامیر میں پائے جانے والے ہزاروں برس پرانے آثارِ قدیمہ کا اسی فیصد حصہ ضائع ہوجائے گا۔ ہائڈلبرگ اکیڈمی آف سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر ہیرالڈ ہوپٹمین نے پشاور میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ اہم ترین آثارِ قدیمہ سے مالا مال ہے۔ ’یہاں پتھروں پر بتیس ہزار قدیم نقش و نگار اور بارہ اقسام کے رسم الخط میں لکھے گئے کتبے موجود ہیں۔ اگر یہ ڈیم موجودہ پلان کے مطابق تعمیر کیا جاتا ہے تو خدشہ ہے کہ ان آثارِ قدیمہ کا اسی فیصد حصہ پانی میں ڈوب جائے گا‘۔ ڈاکٹر ہیرالڈ نے بتایا کہ آئندہ برس اس ڈیم کی تعمیر کے آغاز اور دو ہزار سولہ میں تکمیل سے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامیر میں پائے جانے والے ان تمام آثارِ قدیمہ کو سنگین خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کی جھیل بھاشا سے لے کر رائے کوٹ پل تک بتیس دیہات اور ان کے ساتھ آثار قدیمہ مکمل طور پر ڈوب جائیں گے۔
جرمن ماہر ڈاکٹر ہیرالڈ انیس سو پچاسی سے شاہراہ قراقرم کے ساتھ پائے جانے والے پتھروں پر قدیم نقش و نگار اور رسم الخط کی تحقیق کے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے میں انہیں پاکستان کے معروف ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ دان ڈاکٹر احمد حسن دانی کا تعاون بھی حاصل ہے۔ جرمنی کی ہائڈلبرگ اکیڈمی آف سائینسز اینڈ ہومینٹیز نے یہ منصوبہ چھبیس برس قبل شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر ہیرالڈ کا کہنا تھا کہ ایسے مقام پر ڈیم کا منصوبہ قابل تشویش ہے کیونکہ شمالی علاقہ جات دنیا بھر میں پتھروں پر پائے جانے والے قدیم نقش و نگار اور مختلف رسم الخط والے کتبوں کا گڑھ ہیں۔ اسی قسم کے نقوش آسٹریلیا اور افریقہ میں بھی ملے ہیں لیکن کسی ایک مقام پر اتنی بڑی تعداد میں یہ صرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ہی ہیں۔ ’یہ نوادرات اپنی تعداد اور فرق کے اعتبار سے سب سے زیادہ اور مختلف یہیں پائے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق آٹھویں صدی قبل از مسیح سے سولہویں صدی میں اسلام کی آمد تک ہے‘۔
جرمن ماہر کا ماننا تھا کہ ڈیم کی تعمیر تو نہیں روکی جاسکتی لیکن بہتر یہ ہوگا کہ اس سے قبل ان آثار قدیمہ کا سروے مکمل کیا جائے اور جتنے ممکن ہوسکیں اتنے پتھر وہاں سے کسی عجائب گھر منتقل کر دیے جائیں۔ یہ عجائب گھر گلگت یا کسی اور مقام پر بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بہت کم ایسے پتھر ہیں جن کو وہاں سے کسی اور مقام پر منتقل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر ہیرالڈ نے بتایا کہ وہ جرمنی سے جدید ٹیکنالوجی یہاں لانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ ان نقوش کی تھری ڈائمنشنل سکینگ اور تصویر کشی کی جاسکے۔ ’اس کے بعد ان نقوش کی ہو باہو ویسی ہی نقل باآسانی تیار کی جاسکتی ہے جس سے مستقبل کی نسلوں کا فائدہ ہوگا‘۔
حکومت پاکستان کے ردعمل کے بارے میں ڈاکٹر ہیرالڈ نے بتایا کہ انہوں نے وفاقی سیکرٹری برائے ثقافت جلیل عباس سے اس سلسلے میں اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ردعمل مثبت تھا۔ ’سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیئے رقم نہیں بلکہ ماہرین کی کمی اہم مسئلہ ہوگی‘۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات ماضی میں چین اور مشرق وسطیٰ سے رابطے کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ کافی بحث مباحثے اور تنازعات کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے آخرکار اس ڈیم کا سنگِ بنیاد اس برس کے اوائل میں رکھا تھا۔ | اسی بارے میں نوادررات کی کھیپ پکڑ لی گئی18 November, 2006 | پاکستان 121 ملین سال قدیم مکڑی دریافت14 June, 2006 | نیٹ سائنس نوادرات اسمگل کرنے کی کوشش24 June, 2005 | پاکستان 21 برس کے نطفے سے پیدائش25 May, 2004 | نیٹ سائنس امریکہ: قدیم ترین ہڈی کی دریافت 02 April, 2004 | نیٹ سائنس سب سے پرانا چاول22 October, 2003 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||