BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 June, 2006, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
121 ملین سال قدیم مکڑی دریافت
سائنسدانوں نے محفوظ شدہ ایسی مکڑیاں بھی دریافت کی ہیں جو 350 سے 420 ملین سال قدیم ہیں
زمین پر ڈائناسورز کے قدیم زمانے سے ہی مکڑیاں جال بن کر اس میں کیڑے پھانسنے کا کام کررہی ہیں۔

ماہرین نے 115 سے 121 ملین سال پہلے بنا گیا ایسا جالا دریافت کیا ہے جس میں اب تک مکڑی موجود ہے۔ یہ مکڑی اپنے جالے سمییت ’ایمبر‘ میں پھنسی پائی گئی ہے۔ اس میں پھنسنے کے باعث ہی وہ اور اس کا جالا اتنے برس تک محفوظ رہے ہیں۔

یہ ایک ایسا مادہ ہے جو درختوں سے نکلتا ہے اور اربوں سال تک اپنی اصلی حالت میں جما رہتا ہے۔

مکڑی کا جال بن کر کیڑے پکڑنے کا طریقہ شکار پکڑنے کا بہترین طریقہ کہا جاتا ہے۔

برطانیہ کے ایک سائنسی جریدے نے ایسی مکڑیوں کی دو اقسام بیان کی ہیں۔ فوسل سپائیڈر وہ مکڑیاں ہیں جو زمانہ قدیم سے سپین میں ایمبر کی تہہ میں محفوظ ہوگئیں۔

پھانسنے کے طریقے
 دو اقسام کے ریشم کے استعمال سے یہ ایک ایسا جالا بنتی ہے جو تیزی سے اڑنے والے، بڑے اور مضبوط کیڑوں کو پھانسنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈیوڈ پینی

زمانہ قدیم کی جنگلی حیات کے مطالعہ کے لیئے ایمبر سائنسدانوں کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوا ہے کیونکہ اس ’جواہر‘ نما اس مادے کے اندر کئی کیڑے اور جانور محفوظ ہوکر آج کے سائنسدانوں تک پہنچے ہیں۔

مانچسٹر یونیورسٹی کے ڈیوڈ پینی کا کہنا ہے کہ اب دریافت ہونے والی مکڑی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو آج کی دنیا میں نہیں جانی جاتی تھی۔

دو اقسام کے ریشم کے استعمال سے یہ ایک ایسا جالا بنتی ہے جو تیزی سے اڑنے والے، بڑے اور مضبوط کیڑوں کو پھانسنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔

ایسی مکڑیوں کی زمین پر دو ہزار سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ مختلف کیڑوں کو پھنسانے کے لیئے مختلف طرح کے جالے بنے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر پھولوں کی تعداد بڑھنے سے کیڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا جو کہ پھر مکڑیوں کی غزا بنے اور یوں مکڑیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔

سائنسدانوں نے محفوظ شدہ ایسی مکڑیاں بھی دریافت کی ہیں جو 350 سے 420 ملین سال قدیم ہیں۔ یہ ڈائناسورز سےبھی پہلے کا زمانہ تھا۔

اسی بارے میں
معدوم مینڈک کی واپسی
22 May, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد