121 ملین سال قدیم مکڑی دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمین پر ڈائناسورز کے قدیم زمانے سے ہی مکڑیاں جال بن کر اس میں کیڑے پھانسنے کا کام کررہی ہیں۔ ماہرین نے 115 سے 121 ملین سال پہلے بنا گیا ایسا جالا دریافت کیا ہے جس میں اب تک مکڑی موجود ہے۔ یہ مکڑی اپنے جالے سمییت ’ایمبر‘ میں پھنسی پائی گئی ہے۔ اس میں پھنسنے کے باعث ہی وہ اور اس کا جالا اتنے برس تک محفوظ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا مادہ ہے جو درختوں سے نکلتا ہے اور اربوں سال تک اپنی اصلی حالت میں جما رہتا ہے۔ مکڑی کا جال بن کر کیڑے پکڑنے کا طریقہ شکار پکڑنے کا بہترین طریقہ کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کے ایک سائنسی جریدے نے ایسی مکڑیوں کی دو اقسام بیان کی ہیں۔ فوسل سپائیڈر وہ مکڑیاں ہیں جو زمانہ قدیم سے سپین میں ایمبر کی تہہ میں محفوظ ہوگئیں۔
زمانہ قدیم کی جنگلی حیات کے مطالعہ کے لیئے ایمبر سائنسدانوں کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوا ہے کیونکہ اس ’جواہر‘ نما اس مادے کے اندر کئی کیڑے اور جانور محفوظ ہوکر آج کے سائنسدانوں تک پہنچے ہیں۔ مانچسٹر یونیورسٹی کے ڈیوڈ پینی کا کہنا ہے کہ اب دریافت ہونے والی مکڑی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو آج کی دنیا میں نہیں جانی جاتی تھی۔ دو اقسام کے ریشم کے استعمال سے یہ ایک ایسا جالا بنتی ہے جو تیزی سے اڑنے والے، بڑے اور مضبوط کیڑوں کو پھانسنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔ ایسی مکڑیوں کی زمین پر دو ہزار سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ مختلف کیڑوں کو پھنسانے کے لیئے مختلف طرح کے جالے بنے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر پھولوں کی تعداد بڑھنے سے کیڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا جو کہ پھر مکڑیوں کی غزا بنے اور یوں مکڑیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ سائنسدانوں نے محفوظ شدہ ایسی مکڑیاں بھی دریافت کی ہیں جو 350 سے 420 ملین سال قدیم ہیں۔ یہ ڈائناسورز سےبھی پہلے کا زمانہ تھا۔ | اسی بارے میں پانڈے کو جنگل میں چھوڑ دیا گیا28 April, 2006 | نیٹ سائنس ڈولفن کے بھی ذاتی نام ہوتے ہیں09 May, 2006 | نیٹ سائنس معدوم مینڈک کی واپسی22 May, 2006 | نیٹ سائنس انسانی کینسراور کیڑے میں رشتہ 02 June, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||